فهرس الكتاب

الصفحة 217 من 279

گناہ کی بخشش چاہتا ہوں جو میں نہیں جانتا۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمان باری تعالیٰ:

{فَلا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ أَنْدَادًا وَّأَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} [1]

اللہ تعالیٰ کے لئے شریک نہ بناؤ اس حال میں کہ تمہیں علم ہو۔

کے بارے میں فرماتے ہیں:''انداد'' وہ شرک ہے جو رات کی تاریکی میں کالی چٹان پر چیونٹی کی چال سے بھی پوشیدہ ہے،اور وہ یہ ہے کہ کوئی کہے:اے فلاں ! اللہ کی قسم اور تیری زندگی کی قسم اور میری زندگی کی قسم،یا کہے:اگر اسکی کتیا نہ ہوتی تو کل رات ہمارے یہاں چور آجاتے،اور اگر بطخ گھر میں نہ ہوتی تو چور آگھستے،اور آدمی کا اپنے ساتھی سے یہ کہنا کہ:جو اللہ چاہے اور آپ،یا یہ کہنا کہ:اگر اللہ نہ ہوتا اور فلاں۔ [2]

شرک کی دوسری قسم کی وضاحت کے ضمن میں ذکردہ حدیث:

[2] تیسیر العلی القدیر لاختصارتفسیر ابن کثیر ۱/۳۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت