یعنی:ان کے دلوں میں بیماری ہے ،پس اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھادیا۔
اسی طرح ایمان کی نسبت بھی دل کی طرف ہی فرمائی ہے:
[وَلٰكِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ وَزَيَّنَہٗ فِيْ قُلُوْبِكُمْ وَكَرَّہَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ۰۷] [1]
اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو تمہارے نگاہوں میں ناپسندیده بنا دیا ہے، یہی لوگ راه یافتہ ہیں ۔
گناہوںکی کثرت دل کی سیاہی اور زنگ آلودگی کا سبب بن جاتی ہے:
[كَلَّا بَلْ۰۱۴ ] [2]
یعنی:ان کے دل بسبب ان کے اعمال کے زنگ آلود ہیں۔
بعض علماءِ سلف سے منقول ہے:اس سےمراد یہ ہے کہ گناہ پر گناہ کرتے جانا،دل کو اندھا بنادیتاہے۔
دل پر جمے ہوئے زنگ اور سیاہی کے غلبے کا علاج انتہائی مشکل ہوتا ہے، زندہ انسان
[2] المطففین:۱۴