روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پرلازم کردیا گیا ہے اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے ۔
آیت کریمہ کے اس جملے پر خوب غور کیاجائے:''ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو۔ ''
جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے روگردانی برتے اور دوسروں کی پیروی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لے،اور وہ ہدایت کی دعائیں کرتا رہے، تو اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
لہذا جو شخص صدقِ دل سے ہدایت کاطالب ہے،اس کی دوذمہ داریاں ہیں:
ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کا سوال کرتا رہے،اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ہدایت دینے پر قادر نہیں ہے، اسی لئے حدیث میں یہ جملہ وارد ہوا ہے: (فاستھدونی أھدکم) یعنی: پس تم سب مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں ہی تمہیں ہدایت دونگا۔
دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہدایت کی دعا کے ساتھ ساتھ صحیح طریقِ ہدایت بھی سمجھ لے اور پوری قوت سے اختیار کرلے،صحیح طریقِ ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی پیروی ہے،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات فرماگئے: (ترکت فیکم ما إن أعتصمتم فلن تضلوا أبداکتاب اللہ وسنتی) یعنی:تمہارے بیچ جوکچھ میں