ہم پر تو تاوان ہی پڑ گیا بلکہ ہم بالکل محروم ہی ره گئے اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟ اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کردیں پھر تم ہماری شکرگزاری کیوں نہیں کرتے؟ اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں؟
معلوم ہوا کہ تمام تر رزق کاخالق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور اسی کی عطاء سے سب کو میسر ہوتا ہے،لہذا ہر شخص طلبِ رزق میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے، صرف اسی سے سوال کرناچاہئے۔
(۱۱) اللہ تعالیٰ سے کھانا مانگنے کا یہ معنی نہیں ہے کہ صرف مانگنے پر ہی اکتفاء کرلیاجائے،آسمان سے روپے پیسےیا روٹی نہیں برستی،ان چیزوں کے حصول کیلئے اللہ تعالیٰ سے سوال کے ساتھ ساتھ مباح وسائل واسباب کا اختیار کرنا بھی ضروری ہے،سورۂ ملک میں ارشاد ہوتاہے:
[ہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِہَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ۰۱۵ ] [1]
ترجمہ:وه ذات جس نے تمہارے لیے زمین کو پست ومطیع کردیا تاکہ تم اس کی