فهرس الكتاب
یعنی:جوشخص گھڑی دوگھڑی حصولِ علم کی مشقت برداشت نہیں کرتا وہ زندگی بھر اپنے اندر جہالت کے جام انڈیلتا رہےگا۔
(۱۰) حدیث زیربحث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہرانسان اصلًا بھوکا پیاسا ہے اور کھانا اورپانی صرف اس انسان کو میسر ہے جسے اللہ تعالیٰ عطا فرمائے؛کیونکہ کوئی شخص اس چیز پر قادر نہیں ہے کہ اپنا اناج یاخوراک خود پیدا کرسکے، اللہ تعالیٰ نے سورۃ الواقعہ میں تفصیلًا یہ مضمون ذکر فرمایا ہے:
[اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ۶۳۶۴ لَوْ نَشَاۗءُ لَجَعَلْنٰہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّہُوْنَ۶۵ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ۶۶۶۷ اَفَرَءَيْتُمُ الْمَاۗءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ۶۸۶۹ لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰہُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ۷۰ اَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ تُوْرُوْنَ۷۱۷۲ ] [1]
ترجمہ:اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں اگر ہم چاہیں تواسے ریزه ریزه کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی ره جاؤ کہ