فهرس الكتاب

الصفحة 118 من 144

ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:

(مایزال البلاء بالمؤمن والمؤمنۃ فی نفسہ ومالہ وولدہ حتی یلقی اللہ وما علیہ من خطیئۃ) [1]

یعنی:مؤمن مردیا عورت اپنی جان،مال اور اولاد کے تعلق سے آزمائشوں میں گھرے رہتے ہیں،حتی کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کریں گے کہ ان کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہ ہوگا۔

بصورتِ دیگر معاملہ بہت ہی سنگین ہوگا:

[يَوْمَ يَبْعَثُہُمُ اللہُ جَمِيْعًا فَيُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْا۝۰۰۶] [2]

ترجمہ:جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کیے ہوئے عمل سے آگاه کرے گا، جسے اللہ نے شمار رکھا ہے اور جسے یہ بھول گئے تھے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے ۔

واضح ہو کہ حدیث کا یہ جملہ وعدہ بھی ہے اور وعیدبھی،وعدہ صالحین کیلئے ہے جبکہ وعید ان کیلئےہے جو فسق وفجور کے مرتکب ہوتےہیں۔

[2] المجادلۃ:۶

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت