فهرس الكتاب

الصفحة 45 من 144

ہدایت ہویا استقامت علی الھدایت یاہدایت برہدایت ہو،ان سب کی اساس وحی الٰہی یعنی کتاب اللہ وسنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:

''ترکت فیکم ما إن اعتصتم بہ فلن تضلوا أبدا: کتاب اللہ وسنتی'' [1]

یعنی:میں تمہارے بیچ جو کچھ چھوڑے جارہاہوں اگر تم اسے پوری قوت سے تھامے رہوگے توکبھی گمراہ نہ ہوگے: ایک اللہ کی کتاب اوردوسری میری سنت۔

لہذا وحی الٰہی سے ہٹ کر کوئی راستہ صراطِ مستقیم کی ہدایت پر منتج نہیں ہوسکتا،آراء الرجال اور اھواء نفس ،یا آباء واجداد،یا قوم وقبیلہ یا کسی بھی پیر ومرشد کی پیروی سے صراطِ مستقیم حاصل نہیں ہوسکتا ۔

[فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِيْٓ اُوْحِيَ اِلَيْكَ۰۰] [2]

ترجمہ:پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں بیشک آپ راه راست پر ہیں اور یقینًا یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے ۔

[2] الزخرف:۴۳،۴۴

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت