فهرس الكتاب

الصفحة 204 من 320

بیوی سے علیحدہ رہنے کے علاوہ کوئی چارہ کارہی نہیں ہے تو وہ اللہ کے ہاں معذور ہے۔ اس کے لیے ہم یہی کہنا چاہیں گے کہ اگر اس طویل مدت غیاب میں ممکن ہو تو وہ اپنی گھر والی کے پاس حاضر ہونے کی ضرورکوشش کرے، چاہے ایک دو دن کے لیے کیوں نہ ہو۔ یادر رہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کے ساتھ نہیں رہ سکتا اور دور رہنے پر مجبور ہے تو اس صورت میں بھی اسے اپنی بیوی کے نان ونفقہ اور ضروریات کو پورا کرنا ہوگااوراسے اس میں کسی قسم کی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرناچاہیے ورنہ اللہ کے ہاں مجرم ہوگا اوراس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ جونہی اپنے امور سے فارغ ہو،جلدی سے جلدی اپنی بیوی کے پاس پہنچ جائے۔ (صالح فوزان)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت