فهرس الكتاب

الصفحة 259 من 320

پرورش کا حق

ماں اور بھائی میں پرورش کا جھگڑا

سوال۔ایک بچی8 سال کی ہے، اس کی پرورش ماں کرے گی،یا حقیقی بھائی؟کیونکہ اس کا بھائی بچی کو اس لیے حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اس کی ماں شادی کر چکی ہے۔

جواب۔ماں جب تک آگے شادی نہ کرے، اسے چھوٹے بچوں کی پرورش کا حق حاصل ہے۔اگر بچی کی عمر سات سال کو پہنچ جائےتو باپ کو پرورش کا اختیار ہوگا سوال میں واضح ہے کہ یہ عورت آگے شادی کر چکی ہے اور بچی کی عمر بھی سات سال سے زیادہ ہو چکی ہے تو اس سے پرورش کا اختیار واپس لیا جا سکتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو فرمایا:

(أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ، مَا لَمْ تَنْكِحِي) [1]

''تجھے پرورش کا حق ہے جب تو شادی نہ کرے۔''

اگر اس بچی کا کوئی اور بھائی نہیں ہے جو اس مطالبہ کرنے والے بھائی سے پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہو تو بچی اس کی پرورش میں دے دی جائے گی کیونکہ بھائی والد کے قائم مقام ہے بشرطیکہ کوئی ایسی شرعی رکاوٹ نہ ہو پرورش کے حق کو ختم کردے، مثلًا وہ بے وقوف ہو، فاسق و فاجر ہو یا اس کی بیوی ایسی ہو جو اس بچی کو تنگ کرے یا نقصان پہنچائے۔پھر ماں کو اختیار ہوگا بشرطیکہ اس کا دوسرا خاوند راضی ہو۔ (بالاختصار) (محمد بن ابراہیم آل شیخ)

پرورش کا حق دار کون ہے؟

سوال۔ شیخ صاحب !بتائیے سات سال کے بعد بچی کی پرورش کا حق دار کون ہے، ماں یا باپ؟

جواب۔اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ایک روایت کے مطابق باپ حقدار ہےاور ایک روایت کے مطابق ماں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت