فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
خُلع کی چند صورتیں
سوال۔کیا عورت اپنے خاوند سے خلع لے سکتی ہے؟اگرچہ خاوند اس کی موافقت نہ کررہا ہواور کیا شریعت نے ایسے اسباب کی وضاحت کی ہے کہ جن کی بناء پر ایک عورت اپنے خاوند سے خلع طلب کرسکتی ہے؟
جواب۔عورت اپنے خاوند سے خلع لے سکتی ہے،اس کی چند صورتیں درج ذیل ہیں:
٭ جب عورت اپنے خاوند کے سلوک کو ناپسند کرے اور اس کی بدخلقی سے نالاں ہو،مثلًا وہ انتہائی سخت مزاج،چھوٹی چھوٹی بات پر غصہ میں آجاتا ہو یا اکثر غصہ میں رہتا ہو،ادنیٰ سی بات پر ٹوکتا اور جھڑکتا ہو اور ہلکی سی غلطی پر مارنے پر تل جاتا ہو۔
٭ اگر وہ خاوند کے کسی جسمانی عیب کو ناپسند کرتی ہو،مثلًا اس کے خاوند کے حواس میں نقص ہو جو اس کی بالکل پسند نہ ہو تو وہ خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
٭ جب وہ بے دین اور واجبات میں سستی کرنے والاہو،مثلًا نماز کا تارک ہو یا جماعت کے ساتھ نماز ادا نہ کرتا ہو،رمضان المبارک کے روزے نہ رکھتا ہو یا گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ہو جیسا کہ زنا،چوری،نشہ،موسیقی اور گانے سننا وغیرہ۔
٭ خاونداس کے حقوق غصب کرے،مثلًا اس کے نان ونفقہ،لباس اور دیگر ضروریات کا خیال نہ رکھے حالانکہ وہ مالی لحاظ سے مستحکم اور اس قابل ہو۔
٭ وہ ازدواجی حقوق اداکرنے کے قابل نہ ہو یا پھر وہ اپنی بیوی میں دلچسپی نہ لیتاہو یا کسی اور عورت کی طرف راغب ہو۔
٭ ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں عدل وانصاف سے کام نہ لیتا ہو اور باری مقرر کرنے اور اس کے پاس ٹھہرنے سے گریزاں ہو۔ (عبداللہ بن جبرین)