فهرس الكتاب

الصفحة 109 من 203

انہوں نے جواب دیا:

''مَا سَنَّ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى اللّٰه عليه وسلم أَنْ نُؤَخِّرَ الْأَعْدَآئَ عِنْدَ اللِّقَآئِ أَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ۔فَانْظُرْ فِيْ أَمْرِکَ وَ أَمْرِہِمْ،وَ اخْتَرْ وَاحِدَۃً مِنْ ثَلَاثٍ بَعْدَ الْأَجَلِ۔''

[''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے دستور/ طریقہ /سنت یہی بیان فرمایا ہے،کہ دشمنوں سے آمنا سامنا/ مڈبھیڑ ہونے پر تین دن سے زیادہ مہلت نہ دیں۔سو تم اپنے اور اُن (یعنی ایرانی قوم) کے معاملے میں غور و خوض کر لیجیے او مقررہ وقت گزرنے پر تین (باتوں) میں سے ایک چن لیجیے۔'']

''أَسَیِّدُہُمْ أَنْتَ؟''

[''کیا تم ان کے سردار ہو؟'']

انہوں نے جواب دیا:

''لَا،وَ لٰکِنَّ الْمُسْلِمُوْنَ کَالْجَسَدِ الْوَاحِدِ یُجِیْرُ أَدْنَاہُمْ عَلٰی أَعْلَاہُمْ۔''

[''نہیں،لیکن سارے مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں،اُن کا سب سے ہلکے درجے کا شخص سب سے بلند و بالا شخص/ ادنیٰ اعلیٰ پر پناہ دیتا ہے۔ (یعنی اس کی جانب سے دئیے ہوئے امان کا تمام اہلِ اسلام احترام کرتے ہیں) ۔'']

رستم اپنی قوم کے سرداروں/ کی قیادت کے ساتھ (غور فکر کی خاطر) بیٹھا،تو اُس نے کہا:

''ہَلْ رَأَیْتُمْ قَطُّ أَعَزَّ وَ أَرْجَحَ مِنْ کَلَامِ ہٰذَا الرَّجُلِ؟''

[''کیا تم نے کبھی بھی اس شخص کی گفتگو سے زیادہ باوقار اور زور دار گفتگو دیکھی ہے؟'']

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت