فهرس الكتاب

الصفحة 59 من 203

گھڑیوں میں،مناسب موقع میسر آنے پر،تعلیم و تربیت اور وعظ و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے تھے۔

۳۔مالک بن دینار کا رات کو چور کو دعوت دینا:

حافظ ذہبی نے امام مالک بن دینار کے متعلق نقل کیا ہے:

بیان کیا گیا:

''دَخَلَ عَلَیْہِ لِصٌّ،فَمَا وَجَدَ مَا یَأْخُذُ،فَنَادَاہُ مَالِکٌ:

[''اُن کے ہاں (رات کو) ایک چور داخل ہوا،تو اُس نے لے جانے کے لیے کچھ (بھی) نہ پایا،تو مالک نے اُسے آواز دی:

''لَمْ تَجِدْ شَیْئًا مِّنَ الدُّنْیَا،فَتَرْغَبُ فِيْ شَيْئٍ مِّنَ الْآخِرَۃِ؟''

''دنیا کی تو کوئی چیز تم نے نہیں پائی،تو (کیا) نم آخرت کی کسی چیز میں رغبت رکھتے ہو؟''

اُس نے جواب دیا:'' نَعَمْ۔''

'' (جی) ہاں۔''

انہوں نے فرمایا:''تَوَضَّأْ،وَ صَلِّ رَکْعَتَیْنِ۔''

''وضو کرو اور دو رکعتیں پڑھو۔''

''فَفَعَلَ،ثُمَّ جَلَسَ،وَ خَرَجَ إِلَی الْمَسْجِدِ۔''

''اُس نے (ایسے ہی) کیا۔پھر (کچھ دیر کے لیے) بیٹھ گیا،پھر مسجد کی طرف (چلا) گیا۔''

''فَسُئِلَ:''مَنْ ذَا؟''

''سو (اس کے متعلق) پوچھا گیا:''وہ کون شخص ہے؟''

انہوں نے فرمایا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت