فهرس الكتاب
-مبحث اوّل-
رات دِن دعوت دینا
۱:نوح علیہ السلام کا قوم کو رات دن دعوت دینا:
قرآن کریم میں نوح علیہ السلام کی یہ بات نقل کی گئی:
{قَالَ رَبِّ اِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلًا وَّنَہَارًا} [1]
[انہوں (یعنی نوح-علیہ السلام) نے کہا:'' (اے) میرے رب! بلاشبہ میں اپنی قوم کو رات اور دن دعوت دیتا رہا] ۔
تفسیرِ آیت میں دو مفسرین کے اقوال:
i:حافظ ابن کثیر:
''أَيْ لَمْ أَتْرُکْ دُعَائَ ہُمْ فِیْ لَیْلٍ وَّ لَا نَہَارٍ اِمْتِثَالًا لِأَمْرِکَ وَ ابْتِغَائً لِّطَاعَتِکَ''۔ [2]
[''یعنی میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اور آپ کی تابع داری کے قصد سے انہیں دعوت دینا نہ رات میں ترک کیا اور نہ (ہی) دن میں''] ۔
ii:قاضی ابو سعود:
'' {لَیْلًا وَّ نَہَارًا} :أَيْ دَائِمًا مِنْ غَیْرِ فَتُوْرٍ وَ لَا تَوَانٍ''۔ [3]
[2] تفسیر ابن کثیر ۴/۴۴۸۔
[3] تفسیر أبي السعود ۹/۳۷۔نیز ملاحظہ ہو:روح المعاني ۲۹/۷۱؛ و فتح القدیر ۵/۴۱۶؛ و تفسیر القاسمي ۱۶/۲۹۴۔