پانچ دیگر فوائد:
۱۔ احتساب کے آغاز ہی میں محتسب علیہ کا نام پکار کر کہی جانے والی بات کی طرف اُس کی توجہ اچھی طرح مبذول کروانا [1]
۲۔ محتسب علیہ کے بلند مرتبہ اور شان و عظمت کا احتساب کی راہ میں رکاوٹ نہ ہونا۔ [2]
۳۔ بلند حیثیت شخص سے غیر متوقع غلطی سرزد ہونے پر احتساب میں سخت طرزِ عمل کا اختیار کرنا [3]
۴۔ احتساب میں حدیث شریف سے استشہاد / احتساب میں حدیث شریف کا اتھارٹی ہونا
۵۔ اولاد کے بڑے ہونے،شادی شدہ ہونے یا مستقل حیثیت والے (Independant) ہونے کا احتساب کی راہ میں حائل نہ ہونا
امام بخاری نے عمر بن میمون سے روایت نقل کی ہے،کہ
''أَنَّہٗ جَآئَ رَجُلٌ شَابٌ إِلٰی عُمَرَ رضی اللّٰه عنہ بَعْدَ مَا طُعِنَ،وَ عَرَفَ النَّاسُ أَنَّہٗ مَیِّتٌ۔''
[''بلاشبہ ایک نوجوان شخص عمر رضی اللہ عنہ کے زخمی کیے جانے کے بعد ان کے پاس آیا اور تب لوگ سمجھ چکے تھے،کہ یقینا وہ فوت ہو رہے ہیں۔'']
تو اس نے کہا:
''أَبْشِرْ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِبُشْرَی اللّٰہِ لَکَ،مِنْ صُحْبَۃِ
[2] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:''والدین کا احتساب'' ص ……۔
[3] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:'' من صفات الراعیۃ:اللین و الرفق'' ص …۔