فهرس الكتاب

الصفحة 171 من 203

رَسُوْلِ اللّٰہِ صلى اللّٰه عليه وسلم،وَ قِدْمٍ فِيْ الْإِسْلَامِ،مَا قَدْ عَلِمْتَ،ثُمَّ وُلِیْتَ فَعَدَلْتَ،ثُمَّ شَہَادَۃٍ۔''

[''اے امیر المؤمنین! اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی بشارت سے خوش/ شاداں و فرحان ہو جائیے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پانے،اسلام لانے میں سبقت حاصل کرنے کی وجہ سے،جو آپ جانتے ہیں۔پھر آپ کو والی/ حاکم بنایا گیا،تو آپ نے عدل کیا،پھر (اب آپ) شہادت (کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں) ۔''

انہوں نے (جواب میں) فرمایا:

''وَدِدْتُّ أَنَّ ذٰلِکَ کَفَافٌ،لَا عَلَيَّ،وَ لَا لِيْ۔''

[''میں پسند کرتا ہوں،کہ بلاشبہ وہ برابر برابر ہو جائے،میرے ذمے کچھ نہ ہو اور میرے لیے بھی کچھ نہ ہو۔'']

''فَلَمَّا أَدْبَرَ،فَإِذَا إِزَارُہٗ یَمَسُّ الْأَرْضَ،فَقَالَ:''رُدُّوْا عَلَيَّ الْغُلَامَ!''

[''پس جب وہ (نوجوان) پلٹا،تو (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا،کہ) اس کی نیچے والی چدّر زمین کو چھو رہی ہے،تو انہوں نے فرمایا:

''نوجوان کو میرے پاس لوٹاؤ!''

قَالَ:''یَا ابْنَ أَخِيْ! اِرْفَعْ ثَوْبَکَ فَإِنَّہٗ أَبْقٰی لِثَوْبِکَ،وَ أَتْقٰی لِرَبِّکَ۔'' [1]

(نوجوان کو ان کے روبرو لوٹایا گیا تو،) انہوں نے فرمایا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت