فاطمہ رضی اللہ عنہما کے ہاں نماز (تہجد کی ترغیب دینے) کی خاطر تشریف لائے]۔
i:علامہ قرطبی:
''أَيْ أَتَاہُمَا لَیْلًا،وَ الطَّارِقُ ہُوَ الْآتِيْ بِاللَّیْلِ،وَ مِنْہُ سُمِّيَ النَّجْمُ طَارِقًا۔وَ ہٰذَا الْإِتْیَانُ مِنْہُ صلى اللّٰه عليه وسلم إِنَّمَا کَانَ مِنْہُ لِیُوْقِظَہُمَا لِلصَّلَاۃِ بِدَلِیْلِ قَوْلِہٖ:''أَ لَا تُصَلُّوْنَ؟'' [1]
[''یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے ہاں رات کو تشریف لائے۔[الطَّارِقُ] [رات کو آنے والا] اور اسی سے [ستارے] کو [طَارِقٌ] کا نام دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تشریف آوری انہیں نماز کے لیے بیدار کرنے کی غرض سے تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:
[''کیا تم نماز (تہجد) نہیں پڑھو گے؟'']
اس بات پر دلالت کرتا ہے۔''
ii:علامہ ابن بطال:
''فِیْہِ فَضِیْلَۃُ صَلَاۃِ اللَّیْلِ،وَ إِیْقَاظُ النَّائِمِیْنَ مِنَ الْأَہْلِ وَ الْقَرَابَۃِ لِذٰلِکَ''۔ [2]
[''اس (حدیث) میں نمازِ تہجد کی فضیلت اور اپنے کنبے اور رشتے داروں میں سے سوئے ہوئے لوگوں کو اس کے لیے جگانا ہے''] ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی رات میں دو دفعہ تشریف لانا:
امام نسائی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، (کہ)
[2] بحوالہ:فتح الباري ۳/۱۱۔نیز ملاحظہ ہو:شرح صحیح البخاري لابن بطّال ۳/۱۱۵۔