فهرس الكتاب

الصفحة 156 من 203

[''بلاشبہ جب اللہ تعالیٰ کے نبی نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا،تو انہوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا:

[''یقینا میں تجھے وصیت کرنے لگا ہوں:

میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے منع کرتا ہوں:

میں تجھے [لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ] [1] کا حکم دیتا ہوں،کیونکہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور (لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ) دوسرے پلڑے میں رکھا جائے،تو [لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ] اُن (سب) پر بھاری ہو گا۔

اور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں (مکمل طور پر) ایک بند حلقہ ہو،تو [لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ] اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔

[سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ] [2] کا حکم دیتا ہوں،کیونکہ یہ [کلمات] ہر چیز کی نماز ہیں اور انہیں کے ساتھ مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔

اور میں تجھے سڑک اور تکبّر سے منع کرتا ہوں۔'']

اس واقعہ میں ہم دیکھتے ہیں،کہ موت کی مصیبت نے انہیں بیٹے کو خیر کا حکم دینے اور شر سے باز رہنے سے مشغول نہیں کیا۔

دیگر فوائد:

۱۔ احادیث کا بھی من جانب اللہ ہونا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت نوح علیہ السلام کے واقعہ سے بذریعہ وحی غیر متلو [3] آگاہی

[2] (سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ) : [ترجمہ:اللہ تعالیٰ (ہر عیب،خلل،نقص سے) پاک ہیں اپنی تعریف کے ساتھ]

[3] (وحی غیر متلوّ) :ایسی وحی،جس کی نماز میں تلاوت نہیں کی جاتی۔حدیث شریف [وحی غیر متلوّ] اور قرآن کریم [وحی متلوّ] ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت