فهرس الكتاب

الصفحة 160 من 203

[کیا تم موجود تھے،جب یعقوب-علیہ السلام-کو موت آئی،جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا …؟]

ii:دونوں-علیہما السلام-نے یہ وصیت (صرف) ایک مرتبہ نہیں کی،بلکہ اسے متعدد دفعہ دہرایا۔

حافظ ابن جوزی لکھتے ہیں:

وَ [وَصّٰی] أَبْلَغُ مِنْ [أَوْصٰی] لِأَنَّہَا تَکُوْنُ لِمَرَّاتٍ کَثِیْرَۃٍ۔'' [1]

[''اور [أَوْصٰی] کے مقابلے میں [وَصّٰی] بہت زیادہ بلیغ ہوتا ہے،کیونکہ اس [وَصّٰی] میں (وصیت کا) زیادہ بار کرنا ہوتا ہے۔'']

علامہ قرطبی (وَصّٰی) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''وَ فِیْہِ مَعْنَی التَّکْثِیْرِ۔'' [2]

[اور اس میں بہت زیادہ (دفعہ وصیت کرنے) کا معنی ہے۔'']

iii:علامہ قرطبی: {وَ لَا تَمُوْتُنَّ إِلَّا وَ أَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ} کی تفسیر میں تحریر کرتے ہیں:

''إِیْجَازٌ بَلِیْغٌ،وَ الْمَعْنٰی:اِلْزَمُوْا الْإِسْلَامَ،وَ دَوَمُوْا عَلَیْہِ،وَ لَا تُفَارِقُوْہُ حَتّٰی تَمُوْتُوْا۔فَأَتٰي بِلَفْظٍ مُوْجَزٍ یَتَضَمَّنُ الْمَقْصُوْدَ،وَ یَتَضَمَّنُ وَعْظًا وَ تَذْکِیْرًا کَالْمَوْتِ،وَ ذٰلِکَ أَنَّ الْمَرْئَ یَتَحَقَّقُ أَنَّہٗ یَمُوْتُ وَ لَا یَدْرِيْ مَتٰی،فَإِذَا أُمِرَ بِأَمْرٍ لَا یَأْتِیْہِ الْمَوْتُ إِلَّا وَ ہُوَ عَلَیْہِ،فَقَدْ تَوَجَّہَ الْخِطَابُ مِنْ وَقْتِ الْأَمْرِ دَائِبًا لَازِمًا۔'' [3]

[2] تفسیر القرطبي ۲/۱۳۵۔

[3] المرجع السابق ۲/۱۳۶-۱۳۷۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت