فهرس الكتاب

الصفحة 110 من 176

سیرتوں میں اس کے متعلق کثیر تعداد میں شواہد اور مثالیں موجود ہیں۔توفیق الٰہی سے اس بارے میں درج ذیل چار عنوانوں کے ضمن میں گفتگو کی جارہی ہے:

ا: سابقہ انبیاء علیہم السلام کا دعوت میں لوگوں کے حالات کو پیش نظر رکھنا

ب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوت و تربیت میں لوگوں کے حالات کا خیال رکھنا

ج: سلف صالحین کا لوگوں کے حالات کا خیال رکھنا

د: دعوت توحید میں مداہنت نہیں

(ا)

سابقہ انبیاء علیہم السلام کا دعوت میں لوگوں کے حالات کو پیش نظر رکھنا

حضرات انبیائے کرام علیہم السلام اپنی اپنی امت کے لوگوں کو دعوتِ توحید و رسالت دینے کے بعد،ان باتوں کی دعوت دینے کا اہتمام کرتے،جن کی انہیں ضرورت ہوتی۔توفیق الٰہی سے اس بارے میں ذیل میں چار انبیاء علیہم السلام کے حوالے سے تفصیل پیش کی جارہی ہے:

ا:ہود علیہ السلام کا قوم کو بے جا مال خرچ کرنے اور ظلم سے روکنا:

قومِ عاد دولت مند اور طاقت ور لوگ تھے۔قوت و طاقت میں ان ایسی کوئی قوم پیدا نہیں کی گئی تھی۔ان کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:

{أَلَمْ تَرَ کَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ۔إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۔الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُہَا فِی الْبِلاَدِ۔} [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت