فهرس الكتاب

الصفحة 40 من 176

وہ اسے کوئی اہمیت بھی نہیں دیتا، [لیکن] وہ اس کی بنا پر جہنم میں گر جاتا ہے۔''

اور صحیح مسلم میں ہے:

'' إِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مَا یَتَبَیَّنُ مَا فِیہَا،یَہْوِي بِہَا فِيْ النَّارِ،أَبْعَدَ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔'' [1]

''بلاشبہ بندہ ایک لفظ بولتا ہے،وہ اس میں غورو فکر بھی نہیں کرتا، [لیکن] وہ اس کے سبب دوزخ میں اس قدر گہرائی میں گرتا ہے،جو کہ مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔''

اورجامع الترمذی میں ہے:

''لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ لَا یَرَی بِہَا بَأْسًا یَہْوِي بِہَا سَبْعِینَ خَرِیفًا فِی النَّارِ۔'' [2]

''بے شک آدمی ایک لفظ بولتا ہے،وہ اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتا، [مگر] وہ اس کی وجہ سے ستر سال تک دوزخ میں گرایا جائے گا۔''

د:کسی کا حقارت سے ذکر کرنا:

حضرات ائمہ احمد،ابو داود اور ترمذی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:

[2] جامع الترمذي،أبواب الزھد،باب ما جاء من تکلّم بالکلمۃ لیضحک الناس،رقم الحدیث ۲۴۱۶ عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ ۶؍۴۹۷۔امام ترمذی نے اس کو [حسن] اور شیخ البانی نے [حسن صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۶؍۴۹۷؛ وصحیح سنن الترمذي ۲؍۲۶۸) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت