وہ اسے کوئی اہمیت بھی نہیں دیتا، [لیکن] وہ اس کی بنا پر جہنم میں گر جاتا ہے۔''
اور صحیح مسلم میں ہے:
'' إِنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ مَا یَتَبَیَّنُ مَا فِیہَا،یَہْوِي بِہَا فِيْ النَّارِ،أَبْعَدَ مَا بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔'' [1]
''بلاشبہ بندہ ایک لفظ بولتا ہے،وہ اس میں غورو فکر بھی نہیں کرتا، [لیکن] وہ اس کے سبب دوزخ میں اس قدر گہرائی میں گرتا ہے،جو کہ مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔''
اورجامع الترمذی میں ہے:
''لَیَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَۃِ لَا یَرَی بِہَا بَأْسًا یَہْوِي بِہَا سَبْعِینَ خَرِیفًا فِی النَّارِ۔'' [2]
''بے شک آدمی ایک لفظ بولتا ہے،وہ اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتا، [مگر] وہ اس کی وجہ سے ستر سال تک دوزخ میں گرایا جائے گا۔''
حضرات ائمہ احمد،ابو داود اور ترمذی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:
[2] جامع الترمذي،أبواب الزھد،باب ما جاء من تکلّم بالکلمۃ لیضحک الناس،رقم الحدیث ۲۴۱۶ عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ ۶؍۴۹۷۔امام ترمذی نے اس کو [حسن] اور شیخ البانی نے [حسن صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۶؍۴۹۷؛ وصحیح سنن الترمذي ۲؍۲۶۸) ۔