فهرس الكتاب

الصفحة 46 من 176

''شاید کہ ان کے تر رہنے تک ان کے عذاب میں کمی کر دی جائے۔''

امام بخاری نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان تحریرکیا ہے:

[بَابُ مِنَ الْکَبَائِرِ أَنْ لَا یَسْتَتِرَ مِنَ الْبَوْلِ] [1]

[اس بارے میں باب،کہ پیشاب [کے چھینٹوں] سے نہ بچنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔]

ایک دوسرے مقام پر انہوں نے درج ذیل عنوان لکھا ہے:

[بَابُ النَّمِیْمَۃُ مِنَ الْکَبَائِرِ۔] [2]

[اس بارے میں باب،کہ چغل خوری کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔]

تنبیہ:

بعض محدثین نے الفاظِ حدیث [کَانَ أَحَدُھُمَا لَا یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ] کا ایک دوسرا معنی بھی بیان کیا ہے،کہ وہ پیشاب کرتے ہوئے [ لوگوں سے] ستر پوشی نہ کیا کرتا تھا۔ [3] واللہ تعالیٰ أعلم۔

ل:آخری زمانے میں بُرائی پر ٹوکنا:

امام احمد نے عبدالرحمن بن حضرمی سے روایت کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:''مجھے اس شخص نے بتلایا،جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

''إِنَّ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامًا یُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُوْرِ أَوَّلِھِمْ،یُنْکِرُوْنَ الْمُنْکَرَ۔'' [4]

[2] المرجع السابق،کتاب الأدب،۱۰؍۴۷۲۔

[3] ملاحظہ ہو:فتح الباري ۱؍۳۱۸۔

[4] المسند،رقم الحدیث ۲۳۱۸۱،۳۸؍۴۱۔شیخ البانی نے اس کی [اسناد کو جید] اور اس کے راویوں کو صحیح کے راویان] کہا ہے۔شیخ ارناؤوط اور ان کے رفقاء نے اس کو [حسن لغیرہ] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ،رقم الحدیث۱۷۰۰،۴؍۲۷۵ ؛ وھامش المسند ۳۸؍ ۲۴۱) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت