فهرس الكتاب

الصفحة 135 من 176

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' اِبْنُ أُخْتُ الْقَوْمِ مِنْھُمْ۔''

'' قوم [ یعنی قوم میں سے کسی ایک] کی بہن کا بیٹا ان میں سے ہوتا ہے۔''

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' إِنَّ قُرَیشًا حَدِیْثُ عَہْدٍ بِجَاھِلِیَّۃٍ … الحدیث۔'' [1]

'' بلاشبہ قریش نئے نئے جاہلیت [سے پلٹے ہیں] … الحدیث ''

حافظ ابن حجر اس قصہ کے متعلق تحریر کرتے ہیں:

'' وَفِیْہِ جَوَازُ تَخْصِیْصِ بَعْضِ الْمُخَاطَبِیْنَ فِيْ الْخُطْبَۃِ۔'' [2]

'' اس میں بعض مخاطبین کو خطبہ میں مخصوص کرنے کا جواز ہے۔''

خلاصۂ گفتگو یہ ہے،کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض مسائل اور باتوں کی خبر مخصوص لوگوں تک محدود رکھتے تھے۔اور اس سے بلاشک و شبہ یہ بات عیاں ہے،کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعوت اور تعلیم و تربیت میں مخصوص لوگوں کے حالات اور مسائل کو پیش نظر رکھتے تھے۔ [3]

سلف صالحین کا لوگوں کے حالات کا خیال رکھنا

سلف صالحین اپنے مخاطب لوگوں کے حالات کا خصوصی خیال رکھتے۔ان کی دعوتی

[2] فتح الباري ۸؍ ۵۲۔

[3] اس بارے میں مزید تفصیل کتاب [من صفات الداعیۃ:مراعاۃ أحوال المخاطبین] ص ۳۳۔۱۱۷ ملاحظہ فرمائیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت