فهرس الكتاب

الصفحة 92 من 176

کیا:

'' بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَلیٰ شَھَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ،وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ،وَإِیْتَائِ الزَّکَاۃِ،وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ،وَالنُّصْحِ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔'' [1]

'' ہم نے اس بات کی گواہی دینے پر،کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنے،زکوٰۃ ادا کرنے،سمع و طاعت [2] اور ہر مسلم کے لیے خیر خواہی کرنے پر رسول اللہ … صلی اللہ علیہ وسلم … کی بیعت کی۔''

اس حدیث شریف میں یہ بات واضح ہے،کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ سے توحید و رسالت کی گواہی دینے پر بیعت لی۔امام ابن مندہ نے اس حدیث پر درج ذیل عنوان تحریر کیا ہے:

'' ذِکْرُ بَیْعَۃِ النَّبِیِّ صلي اللّٰهُ عليه وسلم أَصْحَابَہُ عَلیٰ شَھَادَۃِ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا صلي اللّٰهُ عليه وسلم رَسُوْلُ اللّٰہِ۔'' [3]

'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ سے اس بات کی گواہی دینے پر بیعت لینے کا

[2] سمع و طاعت سے مراد امت کے اہل اقتدار کی بات سننا اور قرآن و سنت کی عدم مخالفت کی صورت میں ان کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔

[3] کتاب الإیمان ۱؍ ۲۶۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت