فهرس الكتاب

الصفحة 241 من 702

طلاق

45۔ طلاق ثلاثہ کے متعلق رکانہ والی حدیث: [1]

الحمد للّٰه وکفی، وسلام علی عبادہ الذین اصطفی۔ أما بعد:

از فقیر حقیر محمد شمس الحق ۔عفی عنہ۔ بخدمت شریف مولوی انوار الحق صاحب مدرس مدرسہ انوار العلوم ڈاکخانہ نوا نگر ضلع بلیا۔ بعد سلام علیکم و رحمۃ اللہ و بر کاتہ۔ واضح ہو آپ نے تحریر فر مایا ہے:

آپ نے حاشیہ دار قطنی میں ایک مضمون تحریر فرمایا ہے، اس کی تحقیق مطلوب ہے۔ براہ نوازش جواب مدلل روانہ فرمائیے۔ کتاب ''التعلیق المغني'' صفحہ ( ۴۴۹) میں بعد نقل روایت ابو داود جس میں ابو رکانہ کا قصہ ہے، آپ نے لکھا ہے: ''وھذا حدیث جید الإسناد'' [اس حدیث کی سند جید ہے]

اس کے بعد یہ بھی لکھا ہے: ''والقصۃ معروفۃ ومحفوظۃ، وقد تابعہ علیھا داوٗد بن الحصین، وھذا یدل علی أنہ حفظھا'' [یہ قصہ معروف و محفوظ ہے اور اس کو داود بن الحصین نے بھی نقل کیا ہے۔ جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے اس قصے کو حفظ کیا ہے]

اس کے متعلق یہ امور جواب طلب ہیں:

نمبر۱۔ طالق ابو رکانہ ہیں یا رکانہ؟

نمبر ۲ ۔ ابو رکانہ کا صحیح ترجمہ کیا ہے اور یہ کس سَن ( سال) میں اسلام لائے؟

نمبر۳۔ داود بن الحصین نے کس روایت میں متابعت کی ہے؟

نمبر۴۔ باوجود اس کے کہ اس حدیث میں بعض راوی مجہول واقع ہیں ، جیسا کہ خود آپ نے اسی صفحہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت