لیے کرنا بقید ماہ و تاریخ کے کیسا ہے؟
جواب: گیارھویں کرنا شیخ عبد القادر کی نیت مذکورہ بالا سے شرک ثابت ہوتا ہے۔ اس واسطے کہ یہ سب اوصاف خاص اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ۔ غیر کو اس میں دخل نہیں اور دلائل اس کے، جواب میں سوال [1] کے گزرے۔ حاجت اعادہ کی نہیں ۔اور اگر بلااس نیت کے کرے بقید ماہ و تاریخ تو بدعت ہے۔ اور تفصیل اس کی، جواب میں [فتویٰ نمبر۴۷، ۴۸] آیندہ کے آتی ہے۔
6۔ قبر میں منکر نکیر کے سوال کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا: [1]
سوال: قبر میں منکر نکیر کے سوال کے وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مُردے کے پاس تشریف لانا ثابت ہے یا نہیں ؟ اور در صورتیکہ ثابت نہ ہو تو جو شخص ایسا اعتقاد رکھے، ازروئے شریعت کے اس پر کیا حکم ہوگا؟
جواب: وقت سوال منکر نکیر کے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا کسی حدیث یا آثار سے ثابت نہیں ۔ اور اعتقاد رکھنے والا اس کا گمراہ ہے۔
7۔ فتویٰ لاثانی بر عدم ظلم ربانی: [2]
سوال: بخدمت شریف علما اہل حدیث زاد مجدکم ۔ السلام علیکم۔
نہایت ادب کے ساتھ التماس ہے کہ مسئلہ ذیل کا جواب بہت جلد عنایت فرما دیں:
ایک مولوی صاحب نے بیان کیا کہ ''خداوند تعالیٰ مجرموں کو سزا نہ دے اور نیکوں کو جنت نہ دے تو ظالم ہے''۔کیا یہ عقیدہ از روئے قرآن شریف و حدیث، صحیح ہے یا غلط؟کیا مولوی صاحب مذکور کو اس عقیدہ سے رجوع کرنا چاہیے یا نہیں ؟
جواب: آپ لوگوں کو زیادہ طول دینا بالکل غیر مفید ہے۔ آپ لوگ شرح صحیح مسلم للنووی جلد ۲ ص ۳۷۶ ملاحظہ فرمائیں ۔
شرح صحیح مسلم کی عبارت یہ ہے:
''باب لن یدخل الجنۃ أحد بعملہ: ومذھب أھل السنۃ أیضًا أن اللّٰہ تعالی
[2] فتویٰ لاثانی بر عدم ظلم ربانی۔ مرتبہ حافظ محمد یوسف پنشنر، ساکن امرتسر، مطبوعہ اروڈبنس، امرتسر ۱۹۰۶ء۔ [ع، ش]