فهرس الكتاب

الصفحة 424 من 702

التحقیقات العلیٰ

بإثبات فرضیۃ الجمعۃ في القریٰ [1]

الحمد للّٰه رب العالمین والصلٰوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد وآلہ وأصحابہ أجمعین۔

سوال: 1فرضیتِ [2] صلوٰ ۃ جمعہ کی قصبات و دیہات میں احادیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟

2 اور شرائط و قیو دات واسطے صلوٰۃ جمعہ جو کتب حنفیہ میں لکھی ہوئی ہیں ، وہ احادیث صحیحہ سے مستنبط ہیں یا نہیں ؟

3 اور جو بعض لوگ ظہراحتیاطی بعد ادائِ صلوٰۃ جمعہ کے پڑھتے ہیں ، اس کا پڑھنا جائزہے یا نہیں ؟

جواب: {اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ} [یوسف: ۴۰] ۔ [ فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے]

جواب سوال اول یہ ہے کہ صلوٰۃ جمعہ فرض عین ہے۔ فرضیت اس کی نص قطعی سے ثابت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

{ ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ۔۔۔} [الجمعۃ:۹]

''اے لوگو! جو ایمان لائے ہو جس وقت کہ پکارا جاوے واسطے نماز کے دن جمعہ کے پس

[2] اس بارے میں ایک روایت حضرت تمیم داریt سے سنن بیہقی (۳/ ۱۸۳) اور دوسری روایت حضرت جابرt سے سنن دارقطنی (ص: ۱۶۴) اور سنن بیہقی (۳/ ۱۸۴) میں آئی ہے۔ [ع، ح]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت