فهرس الكتاب

الصفحة 287 من 702

فتویٰ رد تعزیہ داری [1]

الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ محمد، وآلہ وأصحابہ أجمعین۔

سوال: تعزیہ داری کرنا جس طرح کہ اس ملک ہندوستان میں مروج ہے، گناہ کبیرہ ہے یا نہیں ؟ اور جو آدمی بعد توبہ کرنے اس فعل کے، پھر مرتکب اس کا ہوا، اس کا شرع شریف میں کیا حکم ہے ؟ اور جو لوگ مسلمان اہل سنت حنفی ہوکر تعزیہ داروں کے ساتھ اتحاد و محبت رکھتے ہیں اور رنج و راحت میں ان کے شریک رہتے ہیں اور ان کے ان افعال شنیعہ پر مانع نہیں ہوتے ہیں ، ان کا حکم کیا ہے؟

جواب: { اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ} [ یوسف: ۴۰] [فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے]

{ سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ} [البقرۃ: ۳۲]

[اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے، جتنا تونے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم و حکمت والا تو تو ہی ہے]

اربابِ فطانت پر واضح ہو کہ تعزیہ پرستی کرنا، جس طرح پر کہ ملک ہندوستان وغیرہ میں شائع و ذائع ہے، سراسر شرک و ضلالت ہے، کیونکہ تعزیہ پرست لوگ اپنے فہم ناقص و خیال باطل میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی تصویر بناتے ہیں ، اس طور پر کہ پانچویں تاریخ محرم کو تھوڑی مٹی کسی جگہ سے لاتے ہیں اور اس کو نعش حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ قرار دے کر کے نہایت عزت و احترام کے ساتھ ایک چیز بلند پر مثل چبوترہ وغیرہ کے اس کو رکھ کرکے ہر روز اس پر شربت و مٹھائی و مالیدہ و پھول وغیرہ اپنے زعم فاسد میں فاتحہ و نیاز دیتے ہیں اور کسی شخص کو اس چبوترہ پر جوتہ پہنے ہوئے نہیں جانے دیتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت