فهرس الكتاب

الصفحة 263 من 702

لیے یہ قید ''ما لہ إلیۃ'' محض بے دلیل ہے۔ بلکہ دنبہ و بھیڑ ایک ہی جنس ہے اور دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ واللہ اعلم۔

او ر قربانی دنبہ یا بھیڑ کی جو کہ ایک سال سے کم کا ہو، مگر چھ مہینہ سے زیادہ کا ہو اور جوان ہوکر ماد ہ پر جفت کھانے کے لیے صلاحیت رکھتا ہو، جائز و درست ہے۔

صحیح مسلم و سنن ابی داود و نسائی و ابن ماجہ میں ہے:

''عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللّٰه علیہ وسلم: لَا تَذْبَحُوا اِلَّا مُسِنَّۃً اِلَّا أَنْ یَعْسُرَ عَلَیْکُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَۃً مِنَ الضَّأْن'' [1]

[جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسنہ سے کم کو ذبح نہ کرو الا یہ کہ تمھارے لیے دشواری پیش آرہی ہو تو ضان یعنی بھیڑ یا دنبہ میں سے ایک جذعہ کو ذبح کرسکتے ہو]

اور مسند احمد و ترمذی میں ہے:

''عَنْ أبِيْ ھُرَیْرَۃَ قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقُولُ: نِعْمَ أَوْ نِعْمَتِ الْأُضْحِیَّۃُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ'' [2]

[ابو ہریرہ کے واسطے سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: کیا ہی اچھی قربانی ضان (بھیڑ یا دنبہ) میں سے چھوٹے بچے کی ہے]

اور مسند احمد و ابن ماجہ میں ہے:

'' عَنْ أُمِّ بِلَالٍ بِنْتِ ھِلَالٍ عَنْ أَبِیھَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰه صَلَّی اللّٰه عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَجُوزُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ أُضْحِیَّۃً'' [3]

[ام بلال بنت ہلال کے واسطے سے جو اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضان (بھیڑ یا دنبہ) میں سے جذع کی قربانی جائز ہے]

اور ابوداود و ابن ماجہ میں ہے:

[2] مسند أحمد (۲/ ۴۴۴) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۴۹۹) اس کی سند ضعیف ہے۔

[3] مسند أحمد (۶/ ۳۶۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۱۳۹)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت