فهرس الكتاب

الصفحة 484 من 702

''أبو بکر سیدنا وخیرنا وأحبنا إلی رسول اللّٰه صلی اللّٰهُ علیه وسلم '' [1] رواہ الترمذي عن عمر رضي اللّٰه عنہ۔

[ ابو بکر ہمارے سردار ہیں ۔ وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ پیارے ہیں ۔ اس کی روایت ترمذی نے عمر رضی اللہ عنہ سے کی ہے]

دوسرے خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں ، جن کی زبان پر اللہ تعالی نے حق کو جاری کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں فرمایا:

(( إن اللّٰه جعل الحق علی لسان عمر وقلبہ ) ) [2] رواہ الترمذي

[اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور دل پر جاری فرما دیا ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے]

نیز فرمایا:

(( إن اللّٰه وضع الحق علی لسان عمر یقول بہ ) ) [3] رواہ أبو داود

[اللہ نے حق کو عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر رکھ دیا ہے، جس کے مطابق وہ بولتے ہیں ۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے]

نیز مروی ہے:

''سمعت رسول اللّٰه صلی اللّٰهُ علیه وسلم یقول: ما طلعت الشمس علی رجل خیر من عمر'' [4] رواہ الترمذي عن جابر

[میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سورج عمر رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی بہتر شخص پر طلوع نہیں ہوا۔ اس کی روایت ترمذی نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے]

ان کے تیسرے خلیفہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں ، جن کی عظمت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ظاہر ہوتی ہے:

''عن عائشۃ رضی اللّٰه عنہا قالت: کان رسول اللّٰه صلی اللّٰهُ علیه وسلم مضطجعا في بیتہ، کاشفا عن

[2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۶۸۲)

[3] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۹۶۲)

[4] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۶۸۴) اس کی سند میں ''عبداللّٰه بن داود واسطی'' ضعیف اور اس کا شیخ ''عبدالرحمن بن أخ محمد بن المنکدر'' مجہول ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ (۱۳۵۷)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت