فهرس الكتاب

الصفحة 606 من 702

کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم حدیث کی خدمت کے لیے پیدا کیاتھا۔ [1]

اس حدیث کی سند میں تیسرے راوی محمد بن بشر العبدی کا شمار علما و حفاظ میں ہوتا ہے۔ ابن معین نے انھیں ثقہ کہا ہے، جیسا کہ الخلاصہ میں ہے۔ [2] باقی راویوں کے حالات گذشتہ اوراق میں گزر چکے ہیں ۔ پس حدیث شفاء بنت عبد اللہ کی صحت میں اب کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا، لیکن کسی تنگ نظر و متعصب آدمی سے ذرا بعید نہیں کہ وہ اس صحیح الاسناد حدیث کو رد کر ے اور موضوع و باطل احادیث سے تمسک کرے، کیونکہ منکرین حق کا یہی شیوہ رہاہے۔ إنا للّٰه وإنا إلیہ راجعون!

یہ بیان احادیث کی تحقیق و تنقید پر مشتمل تھا۔اب ائمہ کے اقوال ملاحظہ فرمائیں ۔

علامہ اردبیلی ''ازہار شرح المصابیح'' میں فرماتے ہیں:

''قال الخطابي: فیہ دلالۃ علی أن تعلم النساء الکتابۃ غیر مکروہ'' انتھی

[خطابی فرما تے ہیں کہ یہ حدیث عورتوں کو لکھنا سکھانے کے جواز پر بلا کراہت دلالت کرتی ہے]

حافظ ابن قیم ''زاد المعاد'' میں کہتے ہیں:

''وفي الحدیث دلیل علی جواز تعلیم النساء الکتابۃ '' [3] انتہی

[حدیث میں عورتوں کو لکھنا سکھانے کے جوازکی دلیل موجود ہے]

الشیخ العلامہ ابن تیمیہ ''منتقی الاخبار'' میں فرماتے ہیں:

''وھو دلیل علی جواز تعلیم النساء الکتابۃ'' [4] انتھی

[یہ حدیث خواتین کو لکھنا سکھانے کے جواز کی دلیل ہے۔ ختم شد]

اس مسئلے کی تائید حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک اثر سے ہوتی ہے، جسے بخاری نے ''الأدب المفرد'' کے ''باب الکتابۃ إلی النساء وجوابھن'' میں روایت کیا ہے:

''ثنا أبو رافع قال ثنا أبو أسامۃ قال ثنا موسی بن عبد اللّٰه قال حدثنا

[2] الخلاصۃ (ص: ۳۲۸)

[3] زاد المعاد (۴/ ۱۸۵)

[4] منتقی الأخبار مع نیل الأوطار (۹/ ۸۴)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت