فهرس الكتاب

الصفحة 101 من 221

نواں شبہ

کچھ لوگوں نے آیتِ کریمہ: [وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ۝۰۠ ] (یعنی: اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں ) سے استدلال کی کوشش کی ہے۔

وجہِ استدلال یہ ہے کہ یہاں چہرہ ڈھانپنے کی صراحت نہیں ہے،اگر چہرے کا ڈھانپنا ضروری ہوتا تویہاں ضرور ذکرکیاجاتا۔جس سے معلوم ہوتاہے کہ واجب یہی ہے کہ عورت اپنے گریبان پر کپڑے کولپیٹ کر اپنے سینے کوچھپالے۔

جواب: اس حکم میں چہرے کاڈھانپنا ضمنًا موجود ہے،چہرے کاذکر اس لئے نہیں ہوا کہ اس کاعلم تو بدیہی طورپرحاصل ہے؛کیونکہ اوڑھنیاں لٹکانے کی صورت یہی ہے کہ انہیں سروں کے اوپر سے اس طرح لٹکایاجائے کہ گریبان ڈھک جائیں،توچہرہ تو خود بخود آگیا۔

اگر اس آیت کامقصود صرف گریبانوں کو چھپانے کی حد تک ہے تو پھر یہ کہاجاسکتا ہے کہ سر،کانوں،گردن اورسینے کا ڈھانپنا بھی ضروری نہیں ؛کیونکہ آیت کریمہ نے ان میں سے کسی چیز کے ڈھانپنے کاذکر نہیں کیا، لہذا اگر انہیں ڈھانپنا ضروری ہوتا تو قرآن یہاں ان سب کاذکر کرتا۔

اصل بات یہ ہے کہ سنت جوقرآن کابیان ہے اورآثارِ سلف صالحین،اس آیت کی تفسیر میں کافی وشافی ہیں،اور ان سب میں چہرے کوڈھانپنے کاوجوب ثابت ہے۔

دسواں شبہ

کچھ لوگوں نے اس آیت سے دلیل پکڑنے کی کوشش کی ہے: [لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاۗءُ مِنْۢ بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَــبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَـبَكَ حُسْنُہُنَّ ] [1]

یعنی:اس کے بعد اور عورتیں آپ کیلئے حلال نہیں اور نہ یہ (درست

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت