(اُن شبہات کابیان جوایسی احادیث پر مشتمل ہیں جن کی تصحیح میں تساہل کارفرماہے)
خطیب بغدادی،ابوزکریاالنیسابوری سے روایت کرتے ہیں،وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی کوئی حدیث اس وقت تک نہ لکھی جائے،جب تک اسے کوئی ثقہ راوی،کسی ثقہ راوی سے روایت نہ کررہا ہو،اورپھر اسی صفت وکیفیت کے ساتھ اس کی سند،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جائے،سند میںنہ تو کوئی مجہول راوی ہو نہ مجروح ۔
جب اس طرح کوئی بھی حدیث،نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوجائے تو اسے قبول کرکے، اس پر عمل کرنا واجب ہوجائے گا،اور اس کی مخالفت ناجائز قرار پائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ احادیثِ احکام کو قبول کرنے کے قواعد،احادیثِ فضائل ورغائب کو قبول کرنے سے مختلف ہیں۔
امام احمد بن حنبل فرمایا کرتے تھے: جب ہمارے پاس حلال یاحرام پر مبنی کوئی حدیث آئے گی توہم اس کی اسانید کی تحقیق وتنقیح میں سختی سے کام لیں گے،اور جب ترغیب و ترہیب پر مشتمل کوئی حدیث آئے گی تو ہم ان کی اسانید کی تحقیق میں نرمی برتیں گے۔ [1]
جولوگ عورت کے چہرے کو کھلارکھنے کے قائل ہیں،انہوں نے جن احادیث سے استدلال کیاہے،جب ہم نے انہیں محدثین کے قواعد پر پیش کیا توواضح ہوا کہ یاتو ان کی اسانید ضعیف ہیں یاپھر ان کے متون میں نکارت پائی جاتی ہے۔
[2] تفسیر عبدالرزاق ۲/۵۶،جامع البیان لابن جریر:۱۸/۱۱۸،سیوطی درمنثور میں کہتے ہیں: عبدالرزاق،فریابی، سعید بن منصور،ابن ابی شیبہ،عبدبن حمید،ابن جریر،ابن المنذر،ابن ابی حاتم ،طبرانی ،اورابن مردویہ نے ابن مسعود سے [ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا ] کی تفسیر کپڑے اوربڑی چادر روایت کی ہے۔
[3] دیکھئے اضواءالبیان للشنقیطی: ۶/۱۹۸۔۱۹۹