فهرس الكتاب

الصفحة 185 من 221

وجوب کے دلائل اس اصل کو توڑ رہے ہیں،اورجولوگ چہرہ کی بے پردگی کے جواز کے قائل ہیں وہ اس بات سے عاجز ہیں کہ ایک ایسی دلیل پیش کرسکیں جو حجاب کی فرضیت کے حکم سے متاخرہواورمعتبر احتمال سے خالی ہو،جب تک دنیا قائم ہے یہ لوگ عاجز ہی رہیں گے۔ (واللہ اعلم)

چھیا لیسواں شبہ

(یہ لوگ کہتے ہیں) نماز میں پردہ کے وجوب پر اجماع قائم ہے،لیکن عورت کیلئے چہرہ اورہاتھوں کا کھلا رکھنا اوربقیہ بدن کوڈھانپے رکھنامشروع ہے ،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا چہرہ اور ہاتھ (عورۃ) یعنی پردہ نہیں ہیں۔

جواب:یہ کیسا قیاس ہے جو صحتِ قیاس کی شرائط سے خالی ہے،بلکہ یہ قیاس مع الفارق ہے،چنانچہ جس چیز کو نماز میں کھلا رکھنا مشروع ہے ضروری نہیں کہ نماز کے علاوہ بھی اسے کھلا رکھنا جائزہو۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض اوقات نمازی اپنی نماز میں جسم کے جن حصوں کو ڈھانپتا ہے،نماز سے باہر انہیں کھولنا جائز ہوتاہے،اورکبھی کبھی نماز میں ان حصوں کو کھلا رکھتا ہے جنہیں عام طورپہ مردوں سے چھپائے رکھتاہے…۔

(مزید فرماتے ہیں) لہذا نماز میں شرمگاہ (یعنی جسے ڈھانپنا ضروری ہے) کا معاملہ عمومی طور پر (عورۃ النظر) سے مرتبط اور منسلک نہیں ہے (یعنی جسم کے وہ حصے جو عام حالات میں اجنبیوں کی نگاہوں سے چھپائے جانے چاہئیں ) [1]

سینتا لیسواں شبہ

(یہ لوگ کہتے ہیں) چہرے اورہاتھوں کو وجوبًا ڈھانپے رکھنے کا قول ،عند

[2] طبقات ابن سعد:۸/۲۱۶،بخاری نے اس حدیث کو اپنی تاریخ میں ذکر کرکے اس کی صحت کو محلِ نظر کہاہے اور حدیث مسروق جسے انہوںنے خود حصین بن مسروق عن ام رومان کی سند سے روایت کیا ہے،کو اس سے بہتر قرار دیاہے،حافظ ابن حجر (ہدی الساری،ص:۳۷۳) نے ان کی تائید کی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت