فهرس الكتاب

الصفحة 98 من 221

اس پر ایک سوال وارد ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے چہرے اور ہاتھوں کی تخصیص کیوں فرمائی؟جبکہ مجبورًا ظاہرہونے والی ہرزینت قابلِ معافی ہے ؟

اس کاجواب یوں دیاجاسکتا ہے کہ سلف صالحین کا تفسیر میں یہ منہج معروف ہے کہ وہ صرف اس چیز کے ذکرکوکافی سمجھتے ہیں،جس کے ذکر کا متعلقہ حاجت تقاضاکرتی ہے، چنانچہ یہاں عورت کو ہاتھوں اورچہرے کے تعلق سے شرعی حکم،جس کی اسے حاجت تھی، بتا دیاگیا؛کیونکہ عمومی طور پر یہی دواعضاء ایسے ہیں،جوبلاقصد وارادہ جلدی ظاہرہوجاتے ہیں،اوربعض علماء کی تعبیر کے مطابق بعض اوقات ضرورت بھی ان کے اظہار کی متقاضی ہوجاتی ہے۔

مسئلہ کی مزید وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے [اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا] فرمایا ہے،إِلَّا الْوَجْہَ وَالْکَفَّیْنِ نہیں فرمایا،اگر شرعی مقصود،چہرے اورہاتھوں کے کھلا رکھنے کے جواز کاہوتا،تواللہ تعالیٰ چہرے اورہاتھوں کا صریحًا ذکر فرمادیتا؛ کیونکہ احکام کے بیان و تفسیر میں تصریح کا پہلوزیادہ بہتر قرار پاتا ہے۔

آٹھواں شبہ

کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے دلیل لینے کی کوشش کی ہے: [ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ۝۰ۭ] یعنی: اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہوجایاکرے گی پھر نہ تنگ کی جائیں گی ۔

وجہِ استدلال یہ بتلاتے ہیں کہ شناخت ہوجانے میں،چہرہ کھلاہونے کی دلیل ہے؛ کیونکہ اگرچہرہ ڈھکاہواہوتو شناخت کیسے ہو؟

جواب:اس شبہ کے جواب میں مفسرین کاکہنا ہے کہ [يُّعْرَفْنَ] یعنی شناخت ہوجانے کامعنی یہ نہیں ہے کہ کسی ایک عورت کوپہچان لیاجائے کہ وہ کون ہے ؟بلکہ اس

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت