فهرس الكتاب

الصفحة 97 من 221

فرمایاہے: [غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍؚبِزِيْنَۃٍ۝۰] جس سے واضح ہوتا ہے کہ [اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا] (سے مراد اگر چہرہ اورہاتھ لے بھی لیں) تووہ اظہار اضطراری ہوسکتاہے، نہ کہ اختیاری۔

تب ہی تو قرآن میں [اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا] ہے،إِلَّا مَا أَظْہَرْنَ مِنْہَا نہیں ہے، ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ [اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا] میںقصدًا ظاہر کرنا معلوم نہیں ہورہا، جو کسی مشقت یا حرج کی بناء پر ظاہر ہونے کی وجہ سے قابلِ معافی ہوتا،جبکہ اگر [ إِلَّا مَا أَظْہَرْنَ مِنْہَا] ہوتاتو قصدًا ظاہرکرنا معلوم ہوتاجوناقابلِ معافی ہوتا۔

ایک دوسری مثال سے یہ بات مزید واضح ہوگی،صحیح مذہب کے مطابق مرد کی ران پردہ ہے،جسے ڈھانپنا ضروری ہے،لیکن بعض اوقات کپڑا ران سے سرک جاتا ہے، جیسا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث،جس میں خیبر کا واقعہ مذکور ہے ،نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے کپڑا سرک جانے کی حدیث، [1] یہ معاملہ مشقت کی وجہ سے قابلِ معافی ہے ۔ (لیکن ایک مرد اگر قصدًا اپنی ران سے کپڑا اٹھادے تو وہ قابلِ معافی ہوسکتا ہے؟بعینہ اسی طرح ایک عورت کاچہرہ اورہاتھ پردہ ہیں ،کسی عذر یامشقت یاحرج کی بناء پر انکاکھل جانا قابلِ معافی ہے،لیکن کیا بلاعذر کھولے رکھنا قابلِ معافی ہوسکتا ہے؟)

ابن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:آیت کریمہ کے الفاظ سے مجھ پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کو ہمیشہ کیلئے پردہ کئے رکھنے اورجسم کی کوئی چیز ظاہر نہ کرنے کا حکم دیاگیاہے، نیز یہ کہ وہ اپنی زینت کی ہرشیٔ کو ڈھانپے رکھنے کی مقدوربھر کوشش کرتی رہے، [اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا] کے استثناء سے مراد یہ ہوگا کہ عورت کی حرکات وسکنات کی وجہ سے بلا ارادہ، کچھ ظاہرہوتا ہے تووہ ایک ایسی مجبوری ہے جوقابلِ معافی ہے ۔ [2]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت