-حجاب مسلمانوں کیلئے،صنعتی طورپر ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑاہونے میں رکاوٹ ہے۔
-حجاب عورت کی مرد کے ساتھ مساوات کی نفی ہے۔
-حجاب کا مطلب یہ ہے کہ عورت اعتماد کے قابل نہیں ہے۔
-بعض اوقات ایک شخص کسی باپردہ خاتون کودیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ بہت خوبصورت ہوگی،لیکن جب وہ چہرے سے نقاب اٹھاتی ہے تو انتہائی بدصورت ہوتی ہے۔
-ہرممنوع چیز مرغوب ہوتی ہے،چنانچہ جب عورت حجاب کرکے اپنے چہرے کوچھپائے گی تومرد اور زیادہ اس کی طرف دیکھنے کی رغبت رکھے گا۔
-حجاب والی عورت کا پاؤں بھی پھسل سکتا ہے ۔
-حجاب سے عورت سورج کی شعاؤں سے چھپی رہتی ہے حالانکہ سورج کی شعائیں صحت کیلئے مفید ہیں۔
-حجاب عورت کی شخصیت اورپہچان کو مخفی رکھنے کا سبب ہوسکتاہے،جس سے حقوق کے ضیاع کاامکان پیداہوجاتاہے۔
-جن معاشروں میں بے پردگی عام ہے،ان میں کسی عورت کا حجاب اختیارکرنا لباسِ شہرت ہوگا ۔
-جن معاشروںمیں بے پردگی کورواج حاصل ہے،ان میں ترکِ حجاب کسی فتنہ کا باعث نہیں ہوگا ۔
-جن معاشروں میں بے پردگی عام ہے،ان میں بے پردگی کامعاملہ ایک اجتماعی عادت اور عرفِ عام کی حیثیت اختیار کرجاتاہے۔
-کبھی کبھی خاتون چھپے رہنے کی غرض سے حجاب اختیار کرتی ہے،چنانچہ حجاب کی آڑ میں مجرمانہ سرگرمیاں بھی اداہوسکتی ہیں۔