فهرس الكتاب

الصفحة 189 من 221

-حجاب مسلمانوں کیلئے،صنعتی طورپر ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑاہونے میں رکاوٹ ہے۔

-حجاب عورت کی مرد کے ساتھ مساوات کی نفی ہے۔

-حجاب کا مطلب یہ ہے کہ عورت اعتماد کے قابل نہیں ہے۔

-بعض اوقات ایک شخص کسی باپردہ خاتون کودیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ بہت خوبصورت ہوگی،لیکن جب وہ چہرے سے نقاب اٹھاتی ہے تو انتہائی بدصورت ہوتی ہے۔

-ہرممنوع چیز مرغوب ہوتی ہے،چنانچہ جب عورت حجاب کرکے اپنے چہرے کوچھپائے گی تومرد اور زیادہ اس کی طرف دیکھنے کی رغبت رکھے گا۔

-حجاب والی عورت کا پاؤں بھی پھسل سکتا ہے ۔

-حجاب سے عورت سورج کی شعاؤں سے چھپی رہتی ہے حالانکہ سورج کی شعائیں صحت کیلئے مفید ہیں۔

-حجاب عورت کی شخصیت اورپہچان کو مخفی رکھنے کا سبب ہوسکتاہے،جس سے حقوق کے ضیاع کاامکان پیداہوجاتاہے۔

-جن معاشروں میں بے پردگی عام ہے،ان میں کسی عورت کا حجاب اختیارکرنا لباسِ شہرت ہوگا ۔

-جن معاشروںمیں بے پردگی کورواج حاصل ہے،ان میں ترکِ حجاب کسی فتنہ کا باعث نہیں ہوگا ۔

-جن معاشروں میں بے پردگی عام ہے،ان میں بے پردگی کامعاملہ ایک اجتماعی عادت اور عرفِ عام کی حیثیت اختیار کرجاتاہے۔

-کبھی کبھی خاتون چھپے رہنے کی غرض سے حجاب اختیار کرتی ہے،چنانچہ حجاب کی آڑ میں مجرمانہ سرگرمیاں بھی اداہوسکتی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت