فهرس الكتاب

الصفحة 203 من 221

جواب:اس اثراور اس جیسے دیگرآثار سے کتاب وسنت کے نصوص اور مسلمانوں کے عمل کو ردنہیں کیاجاسکتا۔یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ابن عساکرہی میں ایک روایت موجود ہے جس سے اس عورت کا بوڑھاہونا ثابت ہوتا ہے،چنانچہ عروہ بن عبداللہ بن قشیر فرماتے ہیں: میں فاطمہ بنت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا،ان کی گردن میں موتیوں کاہار تھا اور ان کے دونوںہاتھوں میں دوکنگن تھے اور وہ بہت ہی بڑھاپے کی عمر میں داخل تھیں [1]

یہ بھی احتما ل ہے کہ عروہ چھوٹی عمر کے بچے ہوں،جس کی تائید اس امرسے ہوتی ہے کہ مذکورہ تمام زینتیں،اجنبی مردوں کے سامنے ظاہرکرناحرام ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت