فهرس الكتاب

الصفحة 211 من 221

الکتب العربی۔بیروت۔

(البدر المنیر) : أبوحفص عمر بن علی الأنصاری المعروف بابن الملقن (ت:۸۰۴ھ) تحقیق مصطفی أبو الغیط واثنان معہ،دار الھجرۃ۔الریاض،الطبعۃ الأولی ۱۴۲۵ھ۔

(بذل المجھود فی حلّ أبی داود) :خلیل أحمد السّھار نفوری (ت:۱۳۴۶ھ) تعلیق محمد الکاندھلوی،دار الریان للتراث۔ القاھرۃ، الطبعۃ الأولی ۱۴۰۸ھ۔

(بیان الوھم والإیھام فی کتاب الأحکام) : أبوالحسن علی بن محمد المعروف بابن القطان (ت:۶۲۸ھ) تحقیق د۔الحسین آبیت سعید،دار طیبۃ۔ الریاض،الطبعۃ الأولی۱۴۱۸ھ۔

(تاریخ بغداد) : ابوبکر أحمد بن علی الخطیب البغدادی (ت:۴۶۳ھ) دار الکتب العلمیۃ۔بیروت۔

(تاریخ مدینۃ دمشق) : أبوالقاسم علی بن الحسن المعروف بابن عساکر (ت:۵۷۱ھ) تحقیق أبی سعید عمر العمروی،دار الفکر۔بیروت،۱۴۱۵ھ۔

(تخریج الأحادیث والآثار الواقعۃ فی تفسیر الکشاف للزمخشری) : أبومحمد عبدااللّٰه بن یوسف الزیلعی (ت:۷۶۲ھ) ،ومعہ مختصر تخریج أحادیث الکشاف لابن حجر،عنایۃ سلطان بن فھد الطبیشی،،دار ابن خزیمۃ۔ الریاض، الطبعۃ الأولی ۱۴۱۴ھ۔

(تفسیر البحر المحیط) : أبوحیّان محمد بن یوسف الأندلسی (ت:۷۴۵ھ) تحقیق عادل أحمد عبدالموجود وآخرون ،دار الکتب

[2] ابن حجر''الإصابہ''میں قیس بن ابی حازم کے ترجمہ میں کہتے ہیں:''ابن مندہ نے ایک کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ قیس بن ابی حازم کو نبیﷺکی رؤیت حاصل ہے،چنانچہ ابن مندہ نے اپنی سند کے ساتھ قیس کا یہ قول ذکرکیا ہے: ''میںاپنے والد کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا اس وقت آپﷺخطبہ ارشاد فرمارہے تھے،مجھے میرے والد نے بتایا کہ یہ رسول اﷲﷺہیں،اس وقت میری عمر ۷یا۸سال تھی۔'' ابن مندہ نے خود اس روایت کو غیر صحیح کہا ہے ۔خطیب نے بھی اس روایت کو اپنی سند سے روایت کیا ہے البتہ اس میں ''اس وقت میری عمر ۷ یا ۹ سال تھی''کے الفاظ ہیں۔خطیب نے بھی اس روایت پر ''لایصح'' (یعنی یہ روایت صحیح نہیں ہے) کاحکم لگایاہے۔''

اس حدیث کا اصل اگر ثابت بھی ہوجائے پھر بھی اس میں غلطی بالکل واضح ہے،چنانچہ ابن حجرکہتے ہیں: ''مسند بزار میں قیس کے یہ الفاظ ہیں:میں نبیﷺسے ملنے آیالیکن جب میں مدینہ میں پہنچا توآپﷺ وفات پاچکے تھے،میںنے ابوبکررضی اللہ عنہ کوخطبہ دیتے ہوئے پایا۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی روایت میں رسول اﷲﷺ کے بجائے ابوبکر کانام ہی درست ہے،البتہ اس روایت میں ۷یا۸سال کے الفاظ درست نہیں ہیں، کیونکہ بسندِصحیح مذکورہے کہ قیس نے ۱۱۰ سال کی عمر میں وفات پائی ہے ،ان کے سنِ وفات میں اختلاف ہے، ایک قول کے مطابق سن وفات سترہجری سے اوپر ہے، اس قول کی روشنی میں ان کا سن پیدائش ہجرت سے پانچ سال پہلے بنتا ہے اورنتیجۃً وفات نبوی کے موقع پر ان کی عمر۱۵سال بنتی ہے،لہذا پہلے اثرمیں ۷یا۸سال کی عمر میں خطبہ سننے والی بات صحیح معلوم نہیںہوتی ۔قیس کی عمرسے متعلق ابن حجرکا یہ قول ایک اندازہ ہی کی حیثیت رکھتاہے لہذا ان کی یہ بات ہمارے قول (بلوغت سے قبل اسماء کودیکھنا) کے متعارض نہیں ہے۔اور اگرابن حجر کااندازہ غلط ہے توپھر توقیس کی عمروفات نبوی کے موقع پریقینا ۱۵ سال سے کم ہی بنتی ہے ۔ (واﷲ اعلم)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت