یہ چھ وہ مقدمات ہیں،جو جوازکے قائل حضرات اپنے ہرشبہ کے ساتھ پیش کریں،ان مقدمات سے کوئی مفرنہیں ہوناچاہئے،لیکن معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے دلائل میں ان مقدمات کو ثابت کرنے سے عاجز وقاصرہیں۔
جس شخص کوبھی فقہی مسائل میں ترجیح وتصویب کے حوالے سے کچھ درک حاصل ہے،وہ ان کے پیش کردہ شبہات میں ان کے قصورِ علمی کو پوری طرح بھانپ جائے گا۔
انہوں نے جن دلائل کا سہارالیاہے وہ تین طرح کے ہیں:
کچھ دلائل ایسے ہیں جن کی سند صحیح ہے لیکن ان کے مؤقف کی دلیل نہیں بنتے ۔
کچھ دلائل ایسے ہیں جو سندًا ضعیف ہیں۔
کچھ دلائل ایسے مجمل ہیں جن کی دلالت ان کے مؤقف کے خلاف ہے۔
جب یہ سب کچھ واضح ہوگیا توجان لیجئے کہ ایسی کوئی نص یاقیاس یامصلحت موجود نہیں ہے جوعورت کیلئے اجنبی مردوں کے سامنے اپنا چہرہ کھلارکھنے کی متقاضی ہو،بلکہ ہرنص، ہر قیاس اورہرمصلحت ،عورت کیلئے وجوبًاولزومًا اپنا چہرہ ڈھانپنے ہی کی متقاضی ہے،ان لوگوں پرتعجب ہے جو اس لطیف اورنفیس نکتہ سے اعراض بھی کرتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے اعتراض بھی وارد کرتے ہیں۔
[2] مسائل الامام احمد:۷۳۲،الأم لشافعی:۲/۱۴۹،المعرفۃ للبیہقی ۹۶۰۱بسند عطاء عن ابن عباس۔شیخ تویجری فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے اور شیخین کی شرط پر ہے۔ (الصارم: ۱۰۲-۱۰۳)
[3] مسائل الامام احمد لابی داؤد:۷۳۱
[4] احمد:۶/۳۰،ابوداؤد:۱۸۳۳،مسائل الامام احمد:۷۳۱،ابن ماجۃ:۲۹۳۵،دارقطنی: ۲/۲۹۴،بیہقی الکبری:۵/۴۸،المعرفۃ للبیہقی: ۹۶۰۴،ابن خزیمہ(التلخیص:۲/۲۷۲، دیکھئے تعلیق المنذری فی مختصر ابوداؤد:۲/۳۵۴