کذاب ہونے پر تقریبًا اتفاق ہو اسے اگر وہ ثقہ بھی سمجھتے ہوں تو جرح مفسر کے مقابلے میں اس سے قطعًا نہ ان کی توثیق ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی حدیث قابلِ قبول قرار دی جا سکتی ہے۔
حضرت مولانا عثمانی مرحوم نے یہ اصول اور ضابطہ بھی بار بار ذکر کیا ہے کہ امام محمد مجتہد ہیں اور وہ جس حدیث سے استدلال کریں وہ صحیح ہوتی ہے کیونکہ مجتہد جس حدیث سے استدلال کرے تو یہ اس کی تصحیح ہے۔ [1] حتی کہ یہ بھی فرمایا گیا کہ ان کی ذکر کردہ بلاغات ومعلقات بھی حجت ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ فرمایا:
(( قد ذکرنا فی المقدمۃ أن المعلق فی حکم المرسل، ومرسل القرون الثلاثۃ مقبول عندنا لا سیمًا مرسل المجتہد، ومحمد من أتباع التابعین ومن کبار المجتہدین، فکیف لا یکون تعلیقہ وبلاغہ حجۃ ) )
''بے شک ہم نے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ معلق کا حکم مرسل کا ہے۔ اور قرون ثلاثہ کی مراسیل ہمارے نزدیک مقبول ہیں بالخصوص مجتہد کی مرسل، اور محمد شیبانی اتباع التابعین اور کبار مجتہدین میں سے ہیں۔ لہٰذا ان کی معلق اور بلاغًا روایت حجت کیوں نہیں ہو گی۔'' [2]
جس ''مقدمہ'' کا حوالہ انھوں نے دیا ہے اس کی تفصیل قواعد علوم الحدیث [3] میں دیکھی جاسکتی ہے۔جس میں انھوں نے ردالمحتار کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ' بلاغات محمد مسندۃ' امام محمد کی بلاغات مسند ہیں۔
[2] اعلاء السنن: 186/8.
[3] قواعد علوم الحدیث164,163.