فهرس الكتاب

الصفحة 371 من 432

''ثقہ نہ وہ روایت کرتا ہے نہ ہی وہ حدیث بیان کرتا ہے جو مختلط نے حال اختلاط میں بیان کی ہو۔''

حالانکہ یہ قطعًا درست نہیں اس کا مفہوم تو یہ ہوا کہ مختلط سے وہی روایت کرتا ہے جو ضعیف ہوتا ہے۔ ثقہ کسی مختلط کی حالت اختلاط میں بیان کی ہوئی روایت نہیں سنتا،نہ اسے آگے بیان کرتا ہے یہ بات ایسی بدیہی البطلان ہے کہ حدیث کے کسی ادنی طالب علم سے اس کی توقع نہیں۔ معلوم نہیں مولانا مرحوم نے کس خیال میں یہ قاعدہ بنا دیا۔اگر وہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ کے اختصاص کی بنا پر فرماتے کہ اس کا سماع قدیم ہے تو یہ بات درست ہوتی مگر انھوں نے تو ایک اصول ہی متعارف کروادیا ہے۔

علی یدی عدل

مولانا عثمانی نے ابن ماجہ سے ایک روایت عیدین کے دن غسل کے بارے میں ذکر کرکے اسے 'لابأس بہ' قرار دیا ہے۔ پھر حاشیہ میں فرماتے ہیں:

(( فی سندہ جبارۃ وحجاج وھماقد تکلم واختلف فیھما، ففی التہذیب [1] فی ترجمۃ جبارۃ مانصہ: قال أبوحاتم: ھو علی یدی عدل، ھو مثل القاسم بن أبی شیبۃ، وقال مسلمۃ بن قاسم روی عنہ من أھل بلدنا بقی بن مخلد و جبارۃ ثقۃ إن شاء اللّٰه تعالیٰ ، وقال عثمان بن أبی شیبۃ جبارۃ أطلبنا للحدیث وأحفظنا انتھی ملخصًا وفیہ کلام الجارحین ) ) [2]

اس کی سند میں جبارہ اور حجاج دونوں متکلم فیہ ہیں۔ تہذیب میں جبارہ کے ترجمہ میں ہے کہ

[2] اعلاء السنن:159/1.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت