ہے نفاس کے حلال وحرام اور مکروہ کے حوالے سے تمام معاملات حیض کی طرح ہیں ان کے الفاظ ہیں:
(( وفی النیل: وقد وقع الاجماع من العلماء کما فی البحرأن النفاس کالحیض فی جمیع مایحل ویحرم ویکرہ ویندب ) ) [1]
حضرت موصوف نے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت کی مزید تائید کے لیے علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت غالبًا چل چلاؤ میں نقل کر دی۔ورنہ اس کا تعلق نفاس کی کم سے کم مدت کے ساتھ قطعًا نہیں حضرت موصوف سے یہ بات بھی قطعًا مخفی نہیں کہ حیض کی قلیل وکثیر مدت میں اختلاف ہے۔ اس لیے حیض ونفاس کے تمام مسائل میں یکسانیت قطعًا نہیں بلکہ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کا اس سے مطلوب نماز وروزہ وغیرہ مسائل میں دونوں کے احکام کی یکسانیت ہے اور یہ عبارت بھی انھوں نے 'باب سقوط الصلاۃ عن النفساء' کہ نفاس والی عورت سے نماز ساقط ہے، کے تحت ذکر کی ہے۔ اس لیے علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ عبارت امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی مزید تائید میں پیش کرنا درست نہیں۔
اسی قاعدہ کے حوالے سے یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ مولانا عثمانی مرحوم نے 'باب کراھۃ التمایل فی الصلاۃ' کے تحت کنز العمال سے مستدرک حاکم کی ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(( إذا قام أحدکم فی صلاتہ فلیسکن أطرافہ ولا یمیل کما تمیل الیھود، فإن سکون الأطراف من تمام الصلاۃ رواہ الحاکم وقال: غریب وفیہ ثلاثۃ من الصحابۃ ) ) [2]
[2] اعلاء السنن:118/5.