فهرس الكتاب

الصفحة 346 من 432

کے قول سے ہو جاتا ہے۔ کہ 'إنہ جائز الحدیث یکتب حدیثہ' اولًا تو یہاں حضرت صاحب نے دفاع کا حق ادا کرتے ہوئے ''ضعیف '' کا لفظ ہی حذف کر دیا جسے وہ خود متن میں نقل کر چکے ہیں۔

ثانیًا: یہ الفاظ بس احادیث لکھنے کے جواز پر دال ہیں نہ کہ استدلال پر، جیسا کہ ابھی ہم وضاحت کر آئے ہیں۔

ہم یہاں بحث اعلاء السنن کے تناظر میں نذرِ قارئین کر رہے ہیں بعض دیگر حضرات نے اس حوالے سے جو ہوشیاری کا مظاہرہ کیا ہے اس کو طشت ازبام کرنا ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ ہمیں یہاں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ مولانا عثمانی مرحوم نے عبد الرحمن کوفی کے بارے میں نہ کامل جرح نقل کی نہ جرح کے مراتب کا لحاظ کیا اور جو توثیق سمجھی وہ بھی اس کی حدیث کو حسن قرار دینے کا جواز نہیں رکھتی۔

نوح بن ابی مریم

حضرت مولانا عثمانی مرحوم نے ' باب وقت قیام الامام' سے قبل مجمع الزوائد سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک حدیث نقل کی جس کے بارے میں علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس میں نوح بن ابی مریم ضعیف ہے۔ مولانا موصوف اس پر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

(( قلت قال فیہ ابن عدی ھو مع ضعفہ یکتب حدیثہ کذافی المیزان وفی التہذیب روی عنہ شعبۃ، وقد عرفت أن شعبۃ لایروی إلاعن ثقۃ عندہ، والحدیث أخذبہ أبوحنیفۃ ومحمد،وأخذ المجتہد بحدیث یدل علی أن لہ أصلًا عندہ ) ) [1]

''اس کے بارے میں ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے: ضعف کے باوجود اس کی حدیث

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت