فهرس الكتاب

الصفحة 298 من 432

تصویر کا دوسرا رخ

اب آئیے حضرت مولانا صاحب کی الٹی زقند بھی ملاحظہ فرمائیں۔ حنابلہ اپنے اس موقف پر،کہ جمعہ کی نماز سورج ڈھلنے سے پہلے پڑھی جا سکتی ہے، ایک دلیل عبد اللہ بن سیدان السلمی کی روایت سے ذکر کرتے ہیں جس پر مولانا صاحب کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں:

(( قلت: لاحجۃ فیہ لھم أما أولًا فلأن ابن سیدان مجہول لایعرف، قال فی النیل أثر عبد اللّٰه بن سیدان السلمی فیہ مقال، لأن البخاری قال لایتابع علی حدیثہ، وحکی فی المیزان عن بعض العلماء أنہ قال: ھو مجہول لاحجۃ فیہ، وذکر ابن حبان إیاہ فی الثقات لایرفع الجہالۃ لأن لابن حبان فی توثیق المجاھیل اصطلاحًا خاصًا ذکرناہ غیر مرۃ ) )الخ [1]

''میں کہتا ہوں کہ اس میں ان کے لیے کوئی دلیل نہیں اولًا اس لیے کہ ابن سید ان 'مجہول لایعرف' ہے۔ نیل الاوطار میں ہے کہ عبد اللہ بن سیدان السلمی کے اثر میں مقال ہے ،کیونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے: اس کی حدیث کی کسی نے متابعت نہیں کی، اور میزان میں بعض علماء سے منقول ہے کہ وہ مجہول ہے ناقابلِ احتجاج ہے، اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی الثقات میں اس کا ذکر اس کی جہالت دور نہیں کرتا کیونکہ مجہول راویوں کو ثقہ کہنے میں ابنِ حبان رحمۃ اللہ علیہ کی خاص اصطلاح ہے۔''

اس کے بعد ابنِ سیدان کی جہالت کے متعدد حوالے انھوں نے دیئے ہیں۔

بالکل یہی بات انھوں نے حضرت زید بن ارقم کی حدیث کے بارے میں کہی ہے۔ جس کے بارے میں خود انھوں نے امام ابن خزیمہ ،امام ابن المدینی، امام حاکم اور ذہبی رحمۃ اللہ علیہم کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت