فهرس الكتاب

الصفحة 353 من 432

علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روایت کے بارے میں فرمایا: کہ اس میں بقیہ مدلس ہے۔ مولانا صاحب جوابًا ارشاد فرماتے ہیں:

(( التدلیس لیس بعیب عندنا ) ) [1]

''تدلیس ہمارے نزدیک کوئی عیب نہیں۔''

چلیے معاملہ ہی ختم ہو گیا، مگر کیا کریں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک حدیث جس کے بارے میں علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس میں بقیہ مدلس ہے اس کے بارے میں حضرت کا ارشاد ہے:

(( کان کثیر التدلیس عن الضعفاء والمجہولین کما فی طبقات المدلسین وقد نقلناہ اعتضادًا ) ) [2]

''وہ کثرت سے ضعفاء اور مجہولین سے تدلیس کرتا ہے۔ہم نے اسے اعتضادًا نقل کیا ہے۔''

اور یہ تو آپ پہلے ہی اعلاء السنن [3] کے حوالے سے پڑھ آئے ہیں کہ ضعفاء سے کوئی ارسال یا تدلیس کرے تو تمام کے نزدیک جرح ہے۔ اب اس کے بعد یہ فرمانا کہ: ''ہمارے نزدیک تدلیس عیب نہیں۔'' چہ معنی دارد؟

مگر کیا کیا جائے ایک اور مقام پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سابقہ حدیث کے بارے میں علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ ہی سے جب یہ نقل کیا کہ بقیہ مدلس ہے تو حضرت نے فرمایا:

(( لکن لایضرنا فإن التدلیس کالإرسال ) ) [4]

''ہمارے لیے اس کا مدلس ہونا مضر نہیں کیونکہ تدلیس ارسال کی طرح ہے۔ گویا

[2] اعلاء السنن: 166/1.

[3] اعلاء السنن: 142/1.

[4] اعلاء السنن: 235,234/1.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت