فهرس الكتاب

الصفحة 429 من 432

مگر اس کے برعکس یہ دلچسپ حقیقت بھی دیکھئے کہ سند قوی سے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ

(( من لم یصل علی النبی صلي اللّٰهُ عليه وسلم فی التشہد فلیعد صلاتہ ) )

''کہ جو تشہد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردرودنہ پڑھے وہ نماز دوبارہ پڑھے۔''

امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فیصلہ و فتوی حنفی مسلک کے خلاف ہے۔ اس لیے ''حجت '' نہیں ہو سکتا۔ اس سے گلو خلاصی کے لیے حضرت مولانا صاحب ارشاد فرماتے ہیں:

(( قلت معناہ عندنا إن من ترک من التشہد قولہ السلام علیک أیھا النبی ورحمۃ اللّٰه وبرکاتہ، فلیعد صلاتہ ) ) [1]

''میں کہتا ہوں ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ جو تشہد میں سے ' السلام علیک أیھا النبی ورحمۃ اللّٰه وبرکاتہ' چھوڑ دے وہ نماز دوبارہ پڑھے''

مگر یہ تاویل تو جیہ القول بمالا یرضی بہ قائلہ کے قبیل سے ہے۔ یہ درست ہے کہ ''ہمارے نزدیک'' اس کے یہ معنی ہیں،مگر کیا یہی مراد امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کی بھی ہے؟

یہاں دو باتیں مزید غور طلب ہیں ایک یہ کہ ایک ہے ''سلام'' اور ایک ہے ''صلاۃ'' صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تھا: 'قد علمنا کیف نسلم علیک فکیف نصلی علیک؟' ''کہ ہم نے یہ تو جان لیا کہ آپ پر سلام کیسے پڑھیں،مگر صلاۃ کیسے پڑھیں۔؟'' [2] اور اس سلام سے مراد یہی 'السلام علیک أیھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ' ہے جیسا کہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے کہا ہے۔ [3] بلکہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی مراد لیا ہے۔ [4] نیز دیکھئے۔القول البدیع [5] اس لیے تشہد میں یہ سلام تو ''تشہد'' کے لوازمات میں سے ہے،''صلاۃ'' اس سے مستزاد اور سلام سے مزید ہے

[2] بخاری: 6357.

[3] فتح الباری: 155/11.

[4] عمدۃ القاری: 126/19.

[5] القول البدیع للسخاوی: 68,66.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت