فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
کے سردار داؤد علیہ السلام کی اولاد میں ہی آتے رہے ہیں اور وہی یہوذا کی اولاد ہیں۔ یہی تو قیادت، حکومت اور سرداری ہے۔'' میں نے کہا: یہ غلط ہے، اس لیے کہ جالوت کا سردار کسی یہودی یا غیر یہودی پر حکم نافذ نہیں کرسکتا ؛یہ تو صرف ایک ایسا نام ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ نہ ہی اس کی کوئی قیادت ہے اور نہ ہی اس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ ''
ایسے ہی رافضیوں کا معاملہ بھی ہے۔ ان کی امامت حضرتِ حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد سے منقطع ہو چکی ہے؛ بلکہ وہ کبھی بھی ایک دن کے لیے بھی امام یا ملک کے سربراہ نہیں بنے۔ بس ان کی یہ سپنوں کی امامت یہودیوں کے ہاں جالوتوں کے سردار بادشاہ کی طرح ہے۔ [1]
[2] فقرات ۱-۷۔
[3] یہ ایک لاٹھی ہوتی تھی جسے بادشاہ استعمال کرتے ؛ اور جب عوام سے خطاب کرنا ہوتا تو اس سے اشارہ کیا کرتے ؛ القاموس المحیط ۲/ ۲۰؛ ''لفظ: المخصرۃ۔''
[4] ایک لقب ہے ' جس کا اطلاق یہودی اپنے اس بڑے ذمہ دار پر کرتے ہیں جو ان کے دینی اور معاشرتی امور کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ جالوت کی سربراہی کی تاریخ بابلی قید کے بعد سے شروع ہوتی ہے۔ جب یہودیوں نے عراق میں استقرار پکڑا تو انہوں نے اپنے دینی امور ایک دینی شخصیت کے سپرد کردیے ؛ جس کے ذریعہ سے وہ فرات میں پھیلے ہوئے یہودیوں کی تنظیم سازی ممکن ہوتی۔ اس پر '' ریش ِ جالوت '' کے لقب کا اطلاق کیا گیا۔ اس کا معنی ہے:'' کیمیونٹی کا سربراہ۔''عربوں نے لفظ کو بگاڑ یا۔دیکھو: احمد حجازی سقہ کی کتاب: نقد ِ تورات ص ۴۶۔