فهرس الكتاب

الصفحة 277 من 633

دوسری بحث :… اللہ کی طرف بداء کی نسبت رافضی مذہب میں

بداء کا اطلاق لغت میں دو معنوں پر ہوتا ہے:

پہلا معنی:پوشیدگی کے بعد ظاہر ہونا۔ کہا جاتا ہے: بَدَا، بَدْوًا وبُدُوًّا وبَدَا وبَدَائَ ۃً وبُدُوًا: اس کا معنی ہے: ظاہر ہوا۔ اور اَبْدَیْتُہٗ: میں نے اس کو ظاہر کیا۔ اور کہاجاتا ہے: بادي الرأي: یعنی ظاہری رائے۔ [1]

اس معنی پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتاہے:

{ وَبَدَا لَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مَا لَمْ یَکُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ} (الزمر:۴۷ )

'' ان پر اللہ کی طرف سے وہ امر ظاہر ہواجس کا ان کو خیال بھی نہ تھا۔''

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

'' یعنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوگیا جو ان کے لیے عذاب اور سزا کی صورت میں تھے، جو نہ تو ان کی سوچ و فکر میں تھے، اور نہ ہی وہم و گمان میں۔'' [2]

اور ایسے ہی یہ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے:

{وَإِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ أَنفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہٗ} (البقرۃ:۲۸۴)

''اگر تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہرکرو یا چھپاؤ تو اللہ تم سے اُس کا حساب لے گا۔''

دوسرا معنی: (نئی رائے کا پیدا ہونا )

علامہ جوہری کہتے ہیں: ''بدا لہ فی الأمر بدائً۔'' یعنی اس میں ایک نئی رائے پیدا ہوئی۔ [3]

او ر صاحب القاموس المحیط کہتے ہیں: ''بداء لہ فی الأمر بدْوًا و بدائً و بداۃً ''یعنی اس کے لیے ایک نئی رائے سامنے آئی۔ [4]

اس معنی پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتاہے:

{ثُمَّ بَدَا لَہُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا رَأَوُاْ الآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّہُ حَتّٰی حِیْنٍ} (یوسف:۳۵)

''پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشانیاں دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصے کیلئے ان کو قید

[2] اصحاح ۱۲؛ فقرات۱۲-۱۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت