فهرس الكتاب

الصفحة 254 من 633

مجلسی نے بحار الانوار میں سعد القمی سے نقل کیا ہے، وہ کہتا ہے: ابو الفضل الدکین نے کہا ہے: مجھ سے محمد بن راشد نے بیان کیا ؛ وہ اپنے باپ سے روایت کرتاہے، وہ اپنے دادا سے ؛ وہ کہتا ہے: میں نے جعفربن محمد علیہما السلام سے نشانی پوچھی۔ توانہوں نے کہا:

''جو چاہو مجھ سے پوچھ لو، میں آپ کو بتاؤں گا؛ ان شاء اللہ!! تو میں نے کہا: میرا بھائی مر گیا ہے؛ آپ اس کو حکم دیں کہ وہ میرے پاس آئے۔ کہا: اس کا نام کیا تھا ؟ میں نے کہا: اس کا نام احمد تھا۔ آپ نے فرمایا: ''اے احمد، اللہ کے حکم سے کھڑے ہوجاؤ اور جعفر بن محمد کے حکم سے۔'' وہ کھڑا ہوگیا ؛ اوروہ کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم ! میں اس کے پاس آرہا۔ '' [1]

ائمہ کا حیوانات کو زندہ کرنا:

مجلسی نے ''بحار الأنوار'' میں مفضل بن عمر سے نقل کیا ہے، وہ کہتا ہے:

'' میں ابو عبد اللہ جعفر بن محمد علیہما السلام کے ساتھ مکہ میں یا عرفات میں چل رہا تھا۔ ہمار، گزر ایک عورت پر ہوا ؛ اس کے سامنے ایک گائے مری ہوئی پڑی تھی۔ وہ ایک بچے کے ساتھ رو رہی تھی۔ آپ علیہ السلام نے کہا: '' تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس (عورت) نے کہا: '' میرا اور میرے بچوں کاگزر بسر اس گائے پر ہوتا تھا اور یہ مر گئی ہے، اب مجھے یہی پریشانی لاحق ہے (کہ گزر بسر کیسے ہوگی؟) آپ نے فرمایا: کیا تم چاہتی ہو کہ اللہ تمہارے لیے اس گائے کو زندہ کردے ؟ وہ کہنے لگی: کیا تم میری اس مصیبت میں میرا ٹھٹھہ اڑاتے ہو؟ فرمایا: ہر گز نہیں ؛ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ؛ پھر آپ نے ایک دعا کی ؛ پھر اسے اپنی ایڑی سے مارا اور چیخ کر اسے آواز دی۔وہ گائے جلدی جلدی صحیح سلامت کھڑی ہوگئی۔ وہ عورت کہنے لگی: رب کعبہ کی قسم ! یہ تو عیسیٰ بن مریم ہے۔ صادق علیہ السلام لوگوں میں داخل ہوگئے ؛ اور وہ عورت انہیں نہ پہچان سکی۔'' [2]

یونس بن ظبیان سے مروی ہے، وہ کہتا ہے میں لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ صادق علیہ السلام کے پاس تھا ؛ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ فرمانا:

{ فَخُذْ اَرْبَعَۃً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْہُنَّ اِلَیْکَ} (البقرہ:۲۶۰)

'' چار جانور پکڑوا کر اپنے پاس منگوا لو (اور ٹکڑے ٹکرے کروا دو) ۔ ''

''کیا یہ چار مختلف اجناس کے پرندے تھے، یا ایک ہی جنس کے۔ تو فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ اس جیسا دیکھو؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں، ضرور چاہتے ہیں۔ تو آپ نے کہا: '' اے طاؤوس (مور ) ! تو مور فورًا اڑ کر آپ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ تو آپ نے پھر کہا: '' اے کوّے! تو کوّا فورًا اڑ کر آپ کے سامنے حاضر ہو

[2] '' رمیکا'' فارسی زبان کا لفظ ہے۔

[3] فلاں آدمی سے مراد جناب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو لیتے ہیں۔ علیہم من اللّٰه ما یستحقون۔

[4] بصائر الدرجات ص:۲۹۳۔

[5] بصائر الدرجات ص:۲۹۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت