فهرس الكتاب

الصفحة 401 من 732

محلی (ف ۱۳۰۴ھ/ ۱۸۸۶ء) جیسے عظیم و جلیل مصنف و مدرس کے شاگرد تھے، برطانوی حکومت سے شمس العلماء کا خطاب بھی ملا تھا، مدرسہ عالیہ میں پرنسپل رہ چکے تھے، کئی کتابوں کے مصنف تھے۔'' [1]

وفات:

مولانا متاخر علمائے معقولات کے سر بر آوردہ رکن تھے۔ اب نہ یہ فن رہا ہے اور نہ اس فن کے ماہر علماء ہی ملتے ہیں ۔ مولانا نے ایک بھرپور علمی و تدریسی دور گزارا اور بالآخر ۲۸ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ بمطابق مارچ ۱۹۱۹ء کو وفات پائی۔ [2]

[2] شمس العلماء مولانا ابو الخیر عبد الوہاب بہاری کے حالات کے لیے ملاحظہ ہو: تذکرہ علمائے حال (ص: ۵۷) ، تردید العموم (ص: ۶ تا ۸) ، نزہۃ الخواطر (ص: ۱۳۰۶) ، نوادرات (ص: ۳۴۴) ، تذکرہ علمائے اعظم گڑھ (ص: ۶۲) ، تذکرہ علمائے بہار (۱/۱۵۱) ، شمس العلماء (ص: ۲۴۶، ۲۴۷) ، مولانا حکیم سید برکات احمد (ص: ۹۰ تا ۹۶) ، نثر الجواھر و الدرر (ص۸۳۸)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت